تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 862

تذکار مہدی — Page 387

تذکار مهدی ) 387 روایات سیّد نا محمود اس کو تو وحی حضرت علی کے لئے دی گئی تھی وہ بھول کر رسول کریم کی طرف کیوں چلا گیا۔اس کے بعد وہ فوت ہو گیا۔اس پر کسی جلے ہوئے سنی نے کہ دیا اگر وہ تھوڑی دیر زندہ رہتا تو یہ بھی کہہ دیتا تھوڑ اسا بغض خدا سے رکھنا کہ جبرائیل کو بھیجنے میں اس نے دھوکا کھایا۔معلوم ہوتا ہے کسی سنی نے یہ قصہ بنایا ہے جس میں اس نے یہ دکھایا ہے کہ اگر شیعوں کے عقیدوں کو تسلیم کیا جائے تو پھر سب سے بغض رکھنا پڑتا ہے۔مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کونصیحت۔انوار العلوم جلد 9 صفحہ 94 تا 95) خلافت احمدیہ کا ذکر یہ تو اس خلافت کی تاریخ ہے جو رسول کریم ﷺ کے معا بعد ہوئی۔اب میں اس خلافت کا ذکر کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت بھی جماعت کی ذہنی کیفیت وہی تھی جو آنحضرت معے کے وقت میں صحابہ کی تھی چنانچہ ہم سب یہی سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی وفات نہیں پاسکتے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کبھی ایک منٹ کے لئے بھی ہمارے دل میں یہ خیال نہیں آیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہو جائیں گے تو کیا ہو گا۔میں اس وقت بچہ نہیں تھا بلکہ جوانی کی عمرکو پہنچا ہوا تھا، میں مضامین لکھا کرتا تھا، میں ایک رسالے کا ایڈیٹر بھی تھا، مگر میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی میرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پا جائیں گے حالانکہ آخری سالوں میں متواتر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسے الہامات ہوئے جن میں آپ کی وفات کی خبر ہوتی تھی اور آخری ایام میں تو ان کی کثرت اور بھی بڑھ گئی مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسے الہامات ہوتے رہے اور باوجود اس کے کہ بعض الہامات و کشوف میں آپ کی وفات کے سال اور تاریخ وغیرہ کی بھی تعین تھی اور باوجود اس کے کہ ہم الوصیت“ پڑھتے تھے ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہ باتیں شاید آج سے دوصدیاں بعد پوری ہوں گی اس لئے اس بات کا خیال بھی دل میں نہیں گزرتا تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پا جائیں گے تو کیا ہوگا اور چونکہ ہماری حالت ایسی تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے سامنے فوت ہی نہیں ہو سکتے