تذکار مہدی — Page 367
تذکار مهدی ) 367 مجھ میں ایک ایسی قوت آگئی کہ میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔گھوڑ سواری پسند کرنا روایات سید نا محمود انوار العلوم جلد چہارم صفحه 461 462 ) مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک گھوڑی خرید کر دی تھی۔در حقیقت وہ خرید تو نہ کی گئی تھی بلکہ تحفہ بھیجی گئی تھی اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے لڑکوں کو سائیکل پر سواری کرتے دیکھا تو میرے دل میں بھی سائیکل کی سواری کا شوق پیدا ہوا۔میں نے اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں کیا آپ نے فرمایا مجھے سائیکل کی سواری تو پسند نہیں، میں تو گھوڑے کی سواری کو مردانہ سواری سمجھتا ہوں۔میں نے کہا اچھا آپ مجھے گھوڑا ہی لے دیں۔آپ نے فرمایا پھر مجھے گھوڑا وہ پسند ہے جو مضبوط اور طاقتور ہو۔اس سے غالباً آپ کا منشاء یہ تھا کہ میں اچھا سوار بن جاؤں گا۔آپ نے کپورتھلہ والے عبدالمجید خان صاحب کو لکھا کہ ایک اچھا گھوڑا خرید کر بھجوا دیں۔خان صاحب کو اس لئے لکھا کہ ان کے والد صاحب ریاست کے اصطبل کے انچارج تھے اور ان کا خاندان گھوڑوں سے اچھا واقف تھا۔انہوں نے ایک گھوڑی خرید کر تحفہ بھجوا دی اور قیمت نہ لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے تو چونکہ آپ کی وفات کا اثر لازمی طور پر ہمارے اخراجات پر بھی پڑنا تھا اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ اس گھوڑی کو فروخت کر دیا جائے تا کہ اس کے اخراجات کا بوجھ والدہ صاحبہ پر نہ پڑے۔مجھے ایک دوست نے جن کو میرا یہ ارادہ معلوم ہو گیا تھا اور جواب بھی زندہ ہیں۔کہلا بھیجا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحفہ ہے اسے آپ بالکل فروخت نہ کریں۔اس وقت میری عمر انیس (19) سال کی تھی۔وہ جگہ جہاں مجھے یہ بات کہی گئی تھی اب تک یاد ہے۔میں اس وقت ڈھاب کے کنارے تفخیذ الاذہان کے دفتر سے جنوب مشرق کی طرف کھڑا تھا۔جب مجھے یہ کہا گیا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحفہ ہے اس لئے اسے فروخت نہ کرنا چاہئے تو بغیر سوچے سمجھے معاً میرے منہ سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے کہ بے شک یہ تحفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے مگر میں گھوڑی کی خاطر حضرت ام المومنین کو تکلیف دینا نہیں چاہتا۔چنانچہ میں نے اس گھوڑی کو فروخت کر دیا۔(سوانح فضل عمر جلد اوّل صفحه 131-130)