تذکار مہدی — Page 365
تذکار مهدی ) 365 روایات سید نامحمودی مکان میں بلا کر فرمایا محمود دیکھو یہ دھوپ کیسی زردی معلوم ہوتی ہے۔چونکہ مجھے ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی کہ ہر روز دیکھتا تھا۔میں نے کہا نہیں اسی طرح کی ہے جس طرح کی ہر روز ہوا کرتی ہے آپ نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدھم سی ہے قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔چونکہ آپ نے قادیان میں ہی دفن ہو نا تھا اس لئے آپ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپ کی محبت اور الفت کا پتہ لگتا تھا۔راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو (انوار خلافت۔انوار العلوم جلد نمبر 3 صفحہ 175) بہترین صبر یہی ہے کہ انسان میں طاقت ہو اور پھر برداشت کرے اگر طاقت ہی نہ ہو تو پھر برداشت کرنا ایسا اعلیٰ درجہ صبر کا نہیں ہے اور اسی طرح رضا یہی ہے کہ انسان اس بات کا یقین رکھتے ہوئے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے اپنے دل میں بعض ابتلاؤں پر ہر شرح صدر پارے اور اگر یہ ایمان نہ ہو تو اس کو بے غیرتی کہیں گے اور دونوں میں امتیاز اس طرح ہوتا ہے کہ مقام رضا پر پہنچا ہوا انسان اپنے دوسرے اعمال میں نہایت چست اور باہمت اور محنتی ہوتا ہے اور اس کا حوصلہ دوسرے لوگوں کی نسبت غیر معمولی طور پر بڑھا ہوا ہوتا ہے۔رضا کے لفظ پر مجھے ایک بات یاد آ گئی۔حضرت صاحب کی وفات سے پہلے ایام کا ذکر ہے کہ ملک مبارک علی صاحب تاجر لاہور ہر روز شام کو اس مقام پر آجاتے جہاں حضرت صاحب ٹھہرے ہوئے تھے اور جب حضرت صاحب باہر سیر کو جاتے تو وہ اپنی کبھی میں بیٹھ کر ساتھ ہو جاتے مجھے سیر کے لئے حضرت صاحب نے ایک گھوڑی منگوا دی ہوئی تھی۔میں بھی اس پر سوار ہو کر جایا کرتا تھا اور سواری کی سڑک پر گاڑی کے ساتھ ساتھ گھوڑی دوڑا تا چلا جاتا تھا اور باتیں بھی کرتا جاتا تھا۔لیکن جس رات حضرت صاحب کی بیماری میں ترقی ہو کر دوسرے دن آپ نے فوت ہونا تھا میری طبیعت پر کچھ بوجھ سا محسوس ہوتا تھا اس لئے میں گھوڑی پر سوار نہ ہوا۔ملک صاحب نے کہا میری گاڑی میں ہی آجائیں۔چنانچہ میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا لیکن بیٹھتے ہی میرا دل افسردگی کے ایک گہرے گڑھے میں گر گیا اور یہ مصرع میری زبان پر جاری ہو گیا کہ۔راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو“