تذکار مہدی — Page 359
تذکار مهدی ) 359 روایات سید نا محمودی جاتے تھے دوست دیکھ لیتے تھے اور اگر بعض کو موقع ملتا تو مصافحہ بھی کر لیتے تھے۔تقریریں بھی مختصر ہوتی تھیں۔حضرت خلیفہ اول کی تقریر تو پندرہ میں پچیس منٹ ہوتی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آخری جلسہ کی تقریر مجھے یاد ہے کہ پچاس یا پچپن منٹ کی ہوئی تھی اور ہم بڑی باتیں کرتے تھے کہ آج بڑی لمبی تقریر ہوئی ہے اور جماعت میں بڑا شور پڑا کہ آج حضور نے بڑی لمبی تقریر کی ہے۔آپ لوگوں کو چھ چھ گھنٹے سننے کی عادت پڑی ہوئی ہے اب ہمیں چھپیں یا تمیں منٹ کی تقریر ہو تو بڑے مایوس ہو جاتے ہیں کہ بہت چھوٹی تقریر ہوئی ہے۔لیکن اصل تقریر تو وہی ہے جس کو آپ اپنے دل میں رکھ لیں۔جو میرے منہ سے نکل کر ہوا میں اڑ جائے وہ کوئی تقریر نہیں چاہے وہ آٹھ گھنٹے کی ہو یا بیس گھنٹے کی ہو۔اور جو آپ اپنے دل میں رکھ لیں وہ پانچ منٹ کی بھی بڑی ہے۔سو دعائیں کرتے رہو، جلسہ کے ایام میں ذکر الہی کرو اور یہ بھی دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ جو مجھے بولنے کی توفیق دے وہ صحت کے ساتھ دے۔افتتاحی تقریب جلسہ سالانہ 1955ء، انوار العلوم جلد 25 صفحہ 191 تا 192 ، 198 تا 199 ) | حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا آخری جلسہ سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔جس نے محض اپنے فضل و کرم سے ہماری جماعت کو تعداد کے لحاظ سے بہت بڑی زیادتی بخشی۔ایک وہ وقت تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اگر جلسہ سالانہ پر اتنے آدمی جمع ہوتے جتنے اس مسجد میں اس وقت جمع ہیں۔تو اسے بہت بڑی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت کتنے آدمی مسجد میں جمع ہوں گے۔لیکن میرا خیال ہے کہ پانچ چھ سو کے قریب ضرور ہوں گے اور اتنے ہی یعنی سات سو کے قریب آدمی تھے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری سال قادیان میں جلسہ سالانہ پر جمع ہوئے مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت بار بار فرماتے تھے کہ خدا نے ہمیں جس کام کے لئے دنیا میں بھیجا تھا وہ ہو گیا اور اب اتنی بڑی جماعت پیدا ہو گئی اور اتنی کثرت سے لوگ ایمان لے آئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں۔ہمارا مقصد جو اس دنیا میں آنے کا تھا وہ پورا ہو گیا۔اب کجا وہ دن تھا کہ جلسہ سالانہ پر اس قدرا ثر دہام کو عظیم الشان اثر دہام سمجھا جاتا تھا اور کجا یہ وقت ہے کہ اب لاہور شہر میں ہی ہماری ایک جمعہ کی نماز میں اس کے قریب قریب آدمی جمع ہو جاتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ