تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 862

تذکار مہدی — Page 298

تذکار مهدی ) 298 روایات سید نا محمودی کے اختیار میں تھا کہ ان دنوں حفاظت کے خاص سامان مہیا کر لیتا۔مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کو پورا کر دیا۔حالانکہ ظاہری سامان اس کے خلاف تھے۔6 مارچ اس کی موت مقدر تھی۔اور یکم مارچ کو لیکھر ام کو سبھا کی طرف سے ملتان پہنچنے کا حکم ہوا۔وہاں چار مارچ تک اس نے چار لیکچر دیئے۔پھر سبھانے اسے سکھر جانے کے لئے تار دیا۔مگر وہاں پلیگ ہونے کی وجہ سے ملتان کے آریہ سماجیوں نے وہاں جانے سے روک دیا۔پھر پنڈت لیکھرام مظفر گڑھ جانے کے لئے تیار ہوئے۔مگر یہ نہیں معلوم کہ وہ پھر سیدھے کیوں لا ہور کولوٹ پڑے اور چھ مارچ دو پہر کو یہاں پہنچ گئے۔سوانح عمری پنڈت لیکھرام از سوامی شردھانند ہندی صفحہ 198) اگر وہ اس روز واپس نہ آتا تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہوتی۔مگر باوجود اس کے کہ بظاہر اس کے باہر رہنے کا موقع پیدا ہو گیا۔پھر بھی وہ لاہور پہنچ گیا۔اور وقت مقررہ پر قتل ہو گیا۔یہ مثال اس امر کی ہے کہ صحت اور حفاظت کے سارے سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی انسان ہلاک ہو سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ انسان کے کاموں میں دخل دیتا ہے۔لیکن اس نے اسے آزاد بھی چھوڑا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وفات سے دو تین سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شدید کھانسی ہوئی۔میری عمر اس وقت 17 سال کے قریب تھی اور میرے سپرد آپ کی دوائی وغیرہ پلانے کی خدمت تھی اور قدرتی طور پر جس کے سپر د کوئی کام کیا جائے۔وہ اس میں دخل دینا بھی اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔میں بھی اپنی کمپونڈری کا یہ حق سمجھتا تھا کہ کچھ نہ کچھ دخل آپ کے کھانے پینے میں دوں۔چنانچہ مشورہ کے طور پر عرض کر بھی دیا کرتا تھا کہ یہ نہ کھائیں وہ نہ کھائیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے نسخے بھی تیار ہو کر استعمال ہوتے تھے اور انگریزی دوائیاں بھی مگر کھانسی بڑھتی ہی جاتی تھی۔یہ 1907ء کا واقعہ ہے اور عبد الحکیم مرتد نے آپ کی کھانسی کی تکلیف کا پڑھ کر لکھا تھا کہ مرزا صاحب سل کی بیماری میں مبتلا ہوکر فوت ہوں گے۔اس لئے ہمیں کچھ یہ بھی خیال تھا کہ غلط طور پر بھی اسے خوشی کا کوئی بہانہ نہ مل سکے۔مگر آپ کو کھانسی کی تکلیف بہت زیادہ تھی اور بعض اوقات ایسا لمبا او چھو آتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سانس رک جائے گا۔ایسی حالت میں باہر سے کوئی دوست آئے اور تحفہ کے طور پر پھل