تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 862

تذکار مہدی — Page 259

تذکار مهدی ) 259 روایات سید نا محمود خود اشتہارات شائع کرنے میں بعض اوقات خود پسندی بھی آجاتی ہے کہ میرا نام بھی نکلے اور یہ ایسا سخت مرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے متعلق ایک قصہ بیان فرمایا کرتے تھے جو یہ ہے کہ ایک عورت تھی اس نے انگوٹھی بنوائی مگر کسی عورت نے اس کی تعریف نہ کی۔ایک دن اس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی اور جب لوگ اکٹھے ہوئے تو کہنے لگی صرف یہ انگوٹھی بچی ہے اور کچھ نہیں بچا۔کسی نے پوچھا یہ کب بنوائی ہے؟ کہنے لگی اگر یہ کوئی پہلے پوچھ لیتا تو میرا گھر ہی کیوں جلتا۔غرض شہرت پسندی ایسا مرض ہے کہ جس کو لگ جائے ، اسے گھن کی طرح کھا جاتا ہے اور ایسے انسان کو پتہ ہی نہیں لگتا۔اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ مرکز سے جو اشتہارات آئیں انہیں شائع کیا جائے۔ہاں اگر کسی کے ذہن میں کوئی اچھی اور مفید بات آئے تو لکھ کر مرکز میں بھیج دے، یہاں سے وہ شائع ہو جائے گی۔اہم اور ضروری امور، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 340) یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا پس عشق کو بڑھاؤ ، دل میں سوز اور درد پیدا کرو۔یہی میری پہلی نصیحت ہے یہی میری درمیانی نصیحت ہے اور یہی میری آخری نصیحت ہے۔جب تک یہ محبت رہے گی اُس وقت تک سوز قائم رہے گا اور جب تک سوز رہے گا اُس وقت تک زندگی قائم رہے گی جب یہ چیز نکل جائے گی تو پھر لوگوں کے لئے دلیلیں رہ جائیں گی اور تمہارے لئے یہ بھی نہ ہوں گی تمہیں جو چیز کامیاب کر سکتی ہے وہ محبت ہے وہ عشق اور سوز ہے ابھی ایک شعر میں خاں صاحب نے بیان کیا ہے کہ جب شہدائے افغانستان پر پتھر پڑتے تھے تو وہ گھبراتے نہیں تھے بلکہ استقامت اور دلیری کے ساتھ ان کو قبول کرتے تھے اور جب بہت زیادہ ان پر پتھر پڑے تو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید، نعمت اللہ خان صاحب اور دوسرے شہداء نے یہی کہا کہ یا الہی ! ان لوگوں پر رحم کر اور انہیں ہدایت دے۔بات یہ ہے کہ جب عشق کا جذبہ انسان کے اندر ہو تو اس کا رنگ ہی بدل جاتا ہے، اس کی بات میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے چہرہ کی نورانی شعاعیں لوگوں کو کھینچ لیتی ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہاں ہزاروں لوگ آئے اور انہوں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تو یہی کہا کہ یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہوسکتا۔