تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 862

تذکار مہدی — Page 243

تذکار مهدی ) 243 روایات سید نامحمودی کے غلاموں کے آگے آج کل کے بڑے بڑے لوگوں کی اولادیں جو تیاں رکھنا باعث فخر سمجھیں گی۔مگر میں ہم نے کیا لیا سوائے گالیوں اور پتھروں کے۔ہماری زندگیاں اسی میں گزریں گی اور بادشاہتیں انہیں ملیں گی جو ان گالیوں کی لذت سے آشنا نہ ہوں گے ہمارے لئے مقدر بھی یہی ہے اور ہم چاہتے بھی یہی ہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں خود بخود کچھ مل جائے تو اور بات ہے۔مگر ہم چاہتے یہی ہیں کہ ہماری عمریں مخالفتیں اٹھانے اور گالیاں کھانے میں ہی گزریں کیونکہ ان میں جو لذت اور سرور ہے وہ بادشاہتوں میں نہیں۔یہی وہ انعام ہے جو انبیاء اور رسولوں کو ملا اور یہی ہم اپنے لئے چاہتے ہیں۔یہی وہ عید ہے جو آج منائی جا رہی ہے۔بقر عید نبیوں کے زمانہ کی عید ہوا کرتی ہے اور چھوٹی عید نبیوں کے بعد کے زمانہ کی۔چھوٹی عید کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب بھوک کا زمانہ گزر گیا۔لیکن اس عید کا مطلب یہ ہے کہ آؤ قربانی کریں۔اس لئے یہ عید انبیاء اور ان کے خلفاء کے زمانہ کی عید ہے اور چھوٹی عید انبیاء کے بعد کے زمانہ کی ہوتی ہے۔بڑی عید یہی ہے جو قربانیوں اور تکالیف کی ہے، وہ چھوٹی ہے جس میں بادشاہتیں اور حکومتیں ملتی ہیں۔خدا کے انعام نام ہیں قربانی کا۔ہمارے لئے تخت حکومت سولی کا تختہ ہے۔وہی ہماری حکومت ہے اور وہ تمام تکالیف جو ہمیں دی جاتی ہیں انہیں میں ہمارے لئے فخر ہے۔ہم اگر اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے کرتے ہیں۔اگر ہم مخالفوں سے کہتے ہیں کہ گالیاں مت دو تو اس لئے ان کے اخلاق نہ بگڑ جائیں اور اگر حکومت کو متوجہ کرتے ہیں تو اس لئے کہ حکومت خدا کی نظروں میں مغضوب ہو کر تباہ نہ ہو جائے ورنہ ہم تو لذت اسی میں محسوس کرتے ہیں اور مومن کی عید اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ جن لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں جانیں دیں انہوں نے عید نہیں دیکھی۔آج وہ سامنے نہیں ہیں ورنہ تم دیکھتے کہ ان کے چہروں پر ایسے آثار ہوتے تھے جو ظاہری عید منانے والوں کے چہروں پر ہو ہی نہیں سکتے جو جان دے دیتا تھا وہ یہی سمجھتا تھا کہ میری عید آ گئی۔اسی لئے انہیں شہید کہا گیا ہے کہ وہ عید کا چاند دیکھتے ہوئے مرے۔ہر مومن جو دین کے لئے فدا ہوتا ہے۔وہ عید دیکھتا ہے۔یہی عید اضحیہ ہوتی ہے۔یہی انبیاء کے زمانہ کا نشان ہے اور اسی کے لئے ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔خطبات محمود جلد دوم صفحه 181 تا182 ) |