تذکار مہدی — Page 239
تذکار مهدی ) 239 روایات سیّد نا محمود مولوی صاحب! میں پڑھا ہوا تو ہوں نہیں پر ایک بات آپ کو بتا دیتا ہوں کہ آپ کو تو میں ہمیشہ اسٹیشن پر دیکھتا ہوں، آپ لوگوں کو قادیان جانے سے منع کرتے ہیں مگر باوجود اس کے لوگ قادیان جاتے ہیں۔آپ کی جوتیاں بھی اسی کوشش میں گھس گئیں پر لوگ قادیان جانے سے نہیں رکتے لیکن مرزا صاحب تو ہمیشہ گھر میں ہی رہتے اور ملاقات کیلئے بھی بسا اوقات لوگوں کو کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔پھر لوگ قادیان کو تو بھاگے چلتے جاتے ہیں لیکن آپ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔آخر کوئی بات تو ہوگی اس سے آپ سمجھ لیں کہ مرزا صاحب کے پاس کیا ہے۔غرض مذہب کی صداقت کے عوام کی ہدایت کیلئے بھی خدا تعالیٰ نے سامان رکھے ہوئے ہیں جن سے ان پڑھ بھی فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ورنہ وہ پیر ا اِس قدر موٹی عقل کا تھا کہ اُس کو نماز تک یاد نہ ہوتی تھی۔اُسے دو دو روپے تک انعام دینے کے وعدے کئے جاتے تھے کہ پانچ نمازیں پڑھ لے اور یہ انعام لے۔کئی کئی دن اس کو سُبْحَانَ اللهِ یاد کرانے پر لگ گئے مگر ایسے شخص کی ہدایت کیلئے بھی اللہ تعالیٰ نے دلیل رکھی ہوئی تھی۔(ایک رئیس سے مکالمہ، انوار العلوم جلد 14 صفحہ 295-296) مہمانوں کو قادیان جانے سے روکنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا ہی واقعہ ہے ایک نہایت جاہل شخص یہاں ہوا کرتا تھا پیرا اس کا نام تھا اسے دو چار آنے کے پیسے سے اگر کوئی شخص دے دیتا تو وہ دال میں مٹی کے تیل کی آدھی بوتل ڈال کر کھا جاتا۔دین کی معمولی معمولی باتوں سے بھی اتنا نا واقف تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تیرا مذہب کیا ہے؟ وہ اس وقت تو خاموش رہا مگر دوسرے تیسرے دن آپ کے پاس ایک کارڈ لایا کہ ہمارے گاؤں کے نمبردار کو لکھ دیں۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لکھنا ہے؟ تو وہ کہنے لگا آپ نے جو میرا مذہب دریافت کیا تھا۔میں نمبر دار کو لکھ کر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ میرا مذہب کیا ہے؟ حضرت خلیفہ اول ہمیشہ اُس کے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ نماز پڑھو مگر وہ کہتا کہ مجھے نماز نہیں آتی صرف سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللهِ کہنا آتا ہے۔خیر ایک دن حضرت خلیفہ اول نے پیرے سے کہا کہ اگر تم ایک دن پورے پانچ وقت کی نمازیں جماعت سے ادا کرو تو میں تمہیں دوروپے انعام دونگا۔اُس نے عشاء سے نماز شروع کی اور اگلی مغرب کو پوری پانچ