تذکار مہدی — Page 149
تذکار مهدی ) 149 روایات سیّد نا محمود پس اگر کوئی مذہب سے فائدہ اُٹھانا چاہے تو اُس کا طریق یہی ہے کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے گاتی طور پر ڈال دے لیکن اگر قوم کی قوم اس طرح کرے تو اس پر خاص فضل ہوں گے اور وہ ہر میدان میں فتح حاصل کرے گی۔ہماری جماعت کیلئے بھی یہی قدم اٹھانا ضروری ہے مگر بہت سے لوگ صرف کہ دینا کافی سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت کرنی چاہئے کہ ایک طبعی شے بن جائے صرف جھوٹا دعوی نہ ہو کیونکہ جھوٹ اور خدا تعالیٰ کی محبت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔جھوٹ ایک ظلمت ہے اور خدا تعالی کی محبت ایک نور پس نور اور ظلمت کیسے جمع ہو سکتے ہیں۔ایسے شخص کے اندر نہ سستی ہو نہ فریب نہ دعا کیونکہ یہ سب ظلمات ہیں اور خدا تعالیٰ ایک نور ہے۔خطبات محمود جلد 17 صفحہ 471،470) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت مصری حکومت اپنے زمانہ میں نہایت نامور حکومت تھی اور اس کا بادشاہ اپنی طاقت وقوت پر ناز رکھتا تھا۔ایسے بادشاہ کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی مگر باوجود اس کے جب وہ بادشاہ کے پاس گئے تو گو بادشاہ نے ان کو ڈرایا دھمکایا اور انہیں اور ان کی قوم کو تباہ و برباد کر دینے کا ارادہ ظاہر کیا اور کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں بھی مٹا دیا جائے گا اور تمہاری قوم کو بھی مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام باز نہ آئے اور انہوں نے کہا کہ جو پیغام مجھے خدا نے دنیا کے لئے دیا ہے وہ میں ضرور پہنچاؤں گا۔دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس سے روک نہیں سکتی۔یہی حال حضرت عیسی علیہ السلام کا تھا۔یہی حال محمد ﷺ کا تھا اور ایسی ہی حالت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دیکھی۔ساری قومیں آپ کی مخالف تھیں حکومت بھی ایک رنگ میں آپ کی مخالف ہی تھی۔گو آخری زمانہ میں یہ رنگ نہیں رہا بہر حال قو میں آپ مخالف تھیں۔تمام مذاہب کے پیرو آپ کے مخالف تھے۔مولوی آپ کے مخالف تھے۔گدی نشین آپ کے مخالف تھے۔عوام آپ کے مخالف تھے اور امراء اور خواص بھی آپ کے دشمن تھے۔غرض چاروں طرف مخالفت کا ایک طوفان برپا تھا۔لوگوں نے آپ کو بہت کچھ سمجھایا بعض نے دوست بن بن کر کہا کہ آپ اپنے دعوؤں میں کسی قدر کمی کر دیں۔بعض نے کہا کہ اگر آپ فلاں فلاں بات چھوڑ دیں۔تو سب لوگ آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے مگر آپ نے ان میں سے کسی بات کی بھی پروانہ کی اور ہمیشہ اپنے دعوے کو پیش فرماتے رہے اس پر شور ہوتا