تذکار مہدی — Page 107
تذکار مهدی ) 107 روایات سید نا محمودی ہو گئے لیکن اب جس وقت جمعہ پڑھ کر مولوی عبد الکریم صاحب آپ کی طبیعت کا حال پوچھنے کے لیئے آئے تو سب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ سے دریافت کی وہ ی تھی۔کیا آج لوگ مسجد میں زیادہ تھے؟ اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کیونکہ میں خود تو مسجد میں گیا نہیں تھا۔معلوم نہیں بتانے والے کو غلطی لگی یا مجھے اس کی بات سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔میں ان کی بات سے یہ سمجھا تھا کہ مسجد میں جگہ نہیں۔مجھے فکر یہ ہوئی کہ اگر مجھے غلط فہمی ہوئی ہے یا بتانے والے کو ہوئی ہے دونوں صورتوں میں الزام مجھ پر آئے گا کہ میں نے جھوٹ بولا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے جواب دیا ہاں حضور آج واقعہ میں بہت لوگ تھے۔میں اب بھی نہیں جانتا کہ اصلیت کیا تھی۔خدا نے میری بریت کے لئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحب کی زبان سے بھی اس کی تصدیق کرا دی۔یافی الواقع اس دن غیر معمولی طور پر زیادہ لوگ آئے تھے۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہوا ہے جس کا آج تک میرے قلب پر ایک گہرا اثر ہے۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نماز با جماعت کا کتنا خیال رہتا تھا۔(خطبات محمود جلد 9 صفحہ 164-163 ) بچپن میں بچوں کو اخلاق فاضلہ کی مشق کرانی چاہئے مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے اور وہ حالات اور واقعات بالکل میری آنکھوں کے سامنے ہیں کہ سخت سے سخت تپش اور شدید گرمی کے وقت میں باہر نکل جاتا اور تپش اور گرمی بالکل محسوس نہ کرتا۔بلکہ مجھے خوب یاد ہے میں اپنے نفس میں اپنے اوپر یہ بڑا ظلم سمجھا کرتا تھا جب مجھے والدہ صاحبہ یا دوسرے نگران گرمی میں باہر نکلنے اور کھیلنے سے روکتے تھے۔میں اس گرمی میں باہر نکل جاتا اور کچھ محسوس نہ کرتا۔میں سمجھتا ہوں کہ جو خیالات بچپن میں میرے ذہن میں پیدا ہوتے تھے وہی دوسرے بچوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوتے ہوں گے۔جبکہ ان کو گرمی کے وقت باہر نکلنے سے روکا جاتا ہو گا۔وجہ یہ ہے کہ بچپن میں ایسی باتوں کا احساس نہیں ہوتا۔تو جس قدر محنت اور مشقت کی تکلیف کو ایک بڑا آدمی محسوس کرتا ہے بچہ اس کو محسوس نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ماتحت اس کے احساسات کو باطل کیا ہوا ہوتا ہے۔اس لئے اس کو کسی امر کے لئے مشق کرنے میں اتنی دقت محسوس نہیں ہوتی اور جن باتوں کی اس وقت مشق کرتا ہے ان کا آئندہ زندگی میں بڑا اثر ہوتا ہے۔لیکن جن کی مشق بچپن میں نہ ہو ان میں بڑی عمر میں سخت