تذکار مہدی — Page 82
تذکار مهدی ) 82 روایات سید نا محمود صلى الله رسول کے ہیں۔جب یہ سوال میرے سامنے آیا تو میرے دل نے کہا اب میں اس امر کا بھی فیصلہ کر کے ہٹوں گا۔اس کے بعد قدرتی طور پر خدا تعالیٰ کے متعلق میرے دل میں سوال پیدا ہوا اور میں نے کہا یہ سوال بھی حل طلب ہے کہ آیا میں خدا تعالیٰ کو یونہی عقیدہ کے طور پر مانتا ہوں یا سچ سچ یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہو چکی ہے کہ دنیا کا ایک خدا ہے تب اللہ تعالیٰ کے سوال پر بھی میں نے غور کرنا شروع کیا اور میرے دل نے کہا اگر خدا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہے ہیں اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی سچے ہیں اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچے ہیں تو پھر احمدیت بھی یقینا سچی ہے اور اگر دنیا کا کوئی خدا نہیں تو پھر ان میں سے کوئی بھی سچا نہیں اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج میں اس سوال کو حل کر کے رہوں گا اور اگر میرے دل نے یہی فیصلہ کیا کہ کوئی خدا نہیں تو پھر میں اپنے گھر میں نہیں رہوں گا۔بلکہ فوراً باہر نکل جاؤں گا۔یہ فیصلہ کر کے میں نے سوچنا شروع کر دیا اور سوچتا چلا گیا اپنی عمر کے لحاظ سے میں اس سوال کا کوئی معقول جواب نہ دے سکا مگر پھر بھی میں غور کرتا چلا گیا یہاں تک کہ میرا دماغ تھک گیا۔اس وقت میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اس دن بادل نہیں تھے۔آسمان کا جو نہایت ہی مصفی تھا اور ستارے نہایت خوشنمائی کے ساتھ آسمان پر چمک رہے تھے ایک تھکے ہوئے دماغ کے لئے اس سے زیادہ فرحت افزاء اور کون سا نظارہ ہوسکتا تھا۔میں نے بھی ان ستاروں کو دیکھنا شروع کر دیا یہاں تک کہ میں ان ستاروں میں کھویا گیا تھوڑی دیر کے بعد جب پھر میرے دماغ کو ترو تازگی حاصل ہوئی تو میں نے اپنے دل میں کہا کیسے اچھے ستارے ہیں مگر ان ستاروں کے بعد کیا ہو گا۔میرے دماغ نے اس کا یہ جواب دیا کہ ان کے بعد اور ستارے ہوں گے۔پھر میں نے کہا ان کے بعد کیا ہو گا۔اس کا جواب بھی میرے دل نے یہی دیا کہ ان کے بعد اورستارے ہوں گے پھر میرے دل نے کہا اچھا تو پھر ان کے بعد کیا ہو گا۔میرے دماغ نے پھر یہی جواب دیا کہ اُن کے بعد اور ستارے ہوں گے میں نے کہا اچھا تو پھر اس کے بعد کیا ہو گا۔اس کا بھی پھر وہی جواب میرے دل اور دماغ نے دیا کہ کچھ اور ستارے ہوں گے تب میرے دل نے کہا کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد