تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 862

تذکار مہدی — Page 51

تذکار مهدی ) 51 روایات سید نا محمود اور وہ ملک کے امن کو برباد نہیں کریں گے۔یا دالہی میں مشغول رہنا پسند کرتے تھے (خطبات محمود جلد 16 صفحہ 682 ) جب آپ اس قسم کے (دنیاوی مقدمات و ملازمت وغیرہ) معاملات سے تنگ آ گئے۔تو آپ نے ایک خط اپنے والد صاحب کو لکھا۔جس میں اس قسم کے کاموں سے فارغ کر دیئے جانے کی درخواست کی۔اس خط کو میں یہاں نقل کر دیتا ہوں تا کہ معلوم ہو کہ آپ ابتدائی عمر سے کس قدر دنیا سے متنفر تھے اور یا دالہی میں مشغول رہنے کو پسند کرتے تھے۔یہ خط آپ نے اس وقت کے دستور کے مطابق فارسی زبان میں لکھا تھا اور ذیل میں درج ہے: حضرت والد مخدوم من سلامت مراسم غلامانہ و قواعد فدویانه بجا آورده معروض حضرت والا میکند ، چونکه در میں ایام برای العین سے بینم و بچشم سر مشاہدہ میکنم که در همه ممالک و بلاد ہر سال چناں وبائے مے افتد که دوستان را از دوستان و خویشان را از خویشان جدا میکند و هیچ سالے نے بینم کہ ایس نائرہ عظیم و چنیں حادثہ ایم در آں سال شور قیامت نیفگند۔نظر برآں دل از دنیا سردشده است و رواز خوف جاں زرد و اکثر این دو مصرعہ شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بیاد می آیند واشک حسرت ریخته میشود۔مکن تکیه عمر نا پائیدار مباش ایمن از بازی روزگار و نیز این دو مصرعہ ثانی از دیوان فرخ قادیانی ( یہ خود حضرت اقدس کا دعوی سے پہلے کا خلص تھا اور حضور کا دیوان در مکنون کے نام سے شائع ہو چکا ہے) نمک پاش جراحت دل میشود بدنیائے دوں دل مبند اے که وقت اجل رسد ناگہاں جواں لہذا میخواهم که بقیه عمر در گوشتہ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم چینم و بیاد وسبحانه مشغول شوم ، مگر گذشتہ را عذرے دمافات را تدار کے شود۔عمر بگذشت بگذشت و نماند ست جز آیا مے چند که دریاد کسے صبح کنم شامے چند