تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 734 of 862

تذکار مہدی — Page 734

تذکار مهدی ) 734 لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کام نہیں کرنا چاہئے روایات سید نا محمودی مولوی غلام علی صاحب ایک کٹر وہابی ہوا کرتے تھے۔وہابیوں کا یہ فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے۔لیکن حنفیوں کے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تھی کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جمعہ پڑھنا تب جائز ہو سکتا ہے جب مسلمان سلطان ہو۔جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اور جہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر ہو، ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے چونکہ وہ نہ مسلمان سلطان رہا تھا۔نہ قاضی اس لئے وہ جمعہ کی نماز پڑھنا جائزہ نہیں سمجھتے تھے ادھر چونکہ قرآن کریم میں وہ یہ لکھا ہوا پاتے تھے کہ جب تمہیں جمعہ کے لئے بلایا جائے تو فوراً تمام کام چھوڑتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لئے چل پڑو۔اس لئے ان کے دلوں کو اطمینان نہ تھا۔ایک طرف ان کا جی چاہتا تھا کہ وہ جمعہ پڑھیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی حنفی مولوی ہمارے خلاف فتوی نہ دے دیں۔اس مشکل کی وجہ سے ان کا یہ دستور تھا کہ جمعہ کے روز گاؤں میں پہلے جمعہ پڑھتے اور پھر ظہر کی نماز ادا کر لیتے اور وہ خیال کرتے کہ اگر جمعہ والا مسئلہ درست ہے تب بھی ہم بچ گئے اگر ظہر پڑھنے والا مسئلہ صحیح ہے تب بھی ہم بیچ گئے۔اسی لئے وہ ظہر کا نام ظہر کی بجائے احتیاطی“ رکھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ خدا نے اگر ہمارے جمعہ کی نماز کو الگ پھینک دیا تو ہم ظہر کو اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیں گے اور اگر اُس نے ظہر کو رڈ کر دیا تو ہم جمعہ اس کے سامنے پیش کر دیں گے اور اگر کوئی احتیاطی“ نہ پڑھتا تو سمجھا جاتا کہ وہ وہابی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گورداسپور گئے۔راستہ میں جمعہ کا وقت آ گیا۔ہم نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد میں چلے گئے آپ کا عام طریق وہابیوں سے ملتا جلتا تھا کیونکہ وہابی حدیثوں کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے ضروری جانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا ہی انسان کی نجات کے لئے ضروری ہے۔غرض آپ بھی مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گئے اور جمعہ کی نماز پڑھی۔جب مولوی غلام علی صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے چار رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب یہ جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعتیں کیسی ہیں۔وہ کہنے لگے۔یہ احتیاطی ہے۔میں نے کہا۔مولوی صاحب! آپ تو وہابی ہیں اور عقیدہ اس کے مخالف ہیں۔پھر احتیاطی کے کیا معنے ہوئے؟ وہ کہنے لگے یہ احتیاطی ان معنوں میں نہیں کہ خدا کے سامنے ہمارا جمعہ قبول