تذکار مہدی — Page 703
تذکار مهدی ) 703 روایات سید نا محمود دکھائی دیتے ہیں جو اپنے ماں باپ کا مناسب احترام نہیں کرتے اور نہ ان کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں بلکہ اولاد میں سے کسی کو اگر کوئی اچھا عہدہ مل جائے تو وہ اپنے غریب والدین سے ملنے میں بھی شرم محسوس کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کسی ہندو نے بڑی تکلیف برداشت کر کے اپنے لڑکے کو بی اے یا ایم اے کرایا اور اس ڈگری کو حاصل کرنے کے بعد وہ ڈپٹی ہو گیا۔آج کل ڈپٹی ہونا کوئی بڑا اعزاز نہیں سمجھا جاتا لیکن پہلے وقتوں میں ڈپٹی ہونا بھی بڑی بات تھی۔اس کے باپ کو خیال آیا کہ میرا لڑکا ڈپٹی ہو گیا ہے میں بھی اس سے مل آؤں۔چنانچہ جس وقت وہ ہندو اپنے بیٹے کو ملنے کے لئے مجلس میں پہنچا تو اس وقت اس کے پاس وکیل اور بیرسٹر وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے یہ بھی اپنی غلیظ دھوتی کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گیا۔باتیں ہوتی رہیں کسی شخص کو اس غلیظ آدمی کا بیٹھنا برا محسوس ہوا اور اس نے پوچھا کہ ہماری مجلس میں یہ کون آ بیٹھا ہے۔ڈپٹی صاحب اس کی بات سن کر کچھ جھینپ سے گئے اور شرمندگی سے بچنے کے لئے کہنے لگے یہ ہمارے پہلیا ہیں۔باپ اپنے بیٹے کی یہ بات سن کر غصے کے ساتھ جل گیا اور اپنی چادر سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔جناب میں ان کا ٹہلیا نہیں ان کی ماں کا ٹہلیا ہوں۔ساتھ والوں کو جب معلوم ہوا کہ یہ ڈپٹی صاحب کے والد ہیں تو انہوں نے اس کو بہت لعن طعن کی اور کہا کہ اگر آپ ہمیں بتاتے تو ہم ان کی مناسب تعظیم و تکریم کرتے اور ادب کے ساتھ ان کو بٹھاتے۔بہر حال اس قسم کے نظارے روزانہ دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ رشتہ داروں کے ساتھ ملنے سے جی چراتے ہیں تا کہ ان کی اعلیٰ پوزیشن میں کوئی کمی واقع نہ ہو جائے۔گویا ماں باپ کا نام روشن کرنا تو الگ رہا ان کے نام کو بٹہ لگانے والے بن جاتے ہیں اور سوائے ان لوگوں کے جو اس نقطہ نگاہ کے والدین کی عزت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ والدین کی عزت کرو۔دنیا داروں میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو والدین کی پورے طور پر عزت کرتے ہیں اور زمینداروں اور تعلیم یافتہ طبقہ دونوں میں یہی حالات نظر آتے ہیں۔(تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 593) مالن کی مثال جماعت کا امام ہونا بھی انسان کے لئے جہاں بہت سی برکتوں کا موجب ہوتا ہے وہاں اس کو بعض دفعہ لا نخیل عُقدوں میں ڈال دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں قادیان کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہو گیا۔دوستوں نے انہیں سمجھانا چاہا