تذکار مہدی — Page 695
تذکار مهدی ) 695 روایات سید نا محمود ضرورت ہوتی ہے اور یہ قربانیاں کرنے والے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بہتیرے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قربانیاں تو کرتے نہیں البتہ قربانیاں بنالیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک آدمی نے کسی شخص کی دعوت کی اور اپنی طاقت کے مطابق اس کی تواضع میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔جب مہمان جانے لگا تو اس سے معذرت کرنے لگا کہ میری بیوی بیمار تھی کچھ اور بھی مجبوریاں بتلائیں اس لئے آپ کی پوری طرح خدمت نہیں کر سکا اُمید ہے آپ در گذر فرمائیں گے یہ سن کر مہمان کہنے لگا میں جانتا ہوں تم کس غرض سے کہہ رہے ہو تمہارا منشاء یہ ہے کہ میں تمہاری تعریف کروں اور تمہارا احسان مانوں لیکن تم مجھ سے یہ امید نہ رکھو بلکہ تمہیں میرا احسان ماننا چاہئے۔میزبان نے کہا نہیں میرا ہرگز یہ منشاء نہیں میں واقعی شرمسار ہوں کہ پوری طرح آپ کی خدمت نہیں کر سکا اگر آپ کا مجھ پر احسان ہے تو وہ بھی فرما دیجئے میں اس کا بھی شکریہ ادا کر دوں۔اس پر مہمان نے کہا تم خواہ کچھ ہو میں تمہارے دل کی منشاء کو خوب جانتا ہوں لیکن یاد رکھو تم نے تو مجھے کھانا ہی کھلایا ہے۔میرا تم پر بہت بڑا احسان ہے۔تم ذرا اپنے کمرہ کو دیکھو کئی ہزار کا سامان اس میں پڑا ہے جب تم میرے لئے کھانا لینے اندر گئے تھے میں چاہتا تو دیا سلائی دکھا کر یہ سب کچھ جلا دیتا تم ہی بتلاؤ ایک پیسہ کا بھی سامان باقی رہ جاتا مگر میں نے ایسا نہیں کیا کیا میرا احسان کم ہے۔یہ سن کر میزبان نے کہا واقعی آپ نے بہت بڑا احسان کیا میں اس کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔دیکھولو ایک تو انسان ایسا بھی ہوتا ہے کہ بجائے محسن کا احسان پہچانے اور اس کا شکر یہ ادا کرنے کے یہ سمجھتا ہے کہ میں احسان کر رہا ہوں۔دعا اور خر گدا کی مثال ( خطبات محمود جلد 13 صفحہ 592-591 ) دعا کے ساتھ عجز وانکسار بھی نہیں ہوتا تو ایسی دعا بھی نہیں سنی جاتی جس کے ساتھ عجز وانکسار نہ ہو پھر اگر بجز و انکسار ہو لیکن دعا میں اصرار نہ ہو تو بھی دعا قبول ہونے سے رہ جاتی ہے ایسا شخص دعا تو مانگتا ہے مگر ایک دفعہ اور جب دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو پھر اسے مانگنا چھوڑ دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ بعض وقت خدا تعالیٰ اس کو دیتا ہے جو اس طرح مانگتا ہے کہ اگر وہ ساری عمر بھی نہ دے تو یہ ساری عمر ہی مانگتا چلا جائے سوائے اس صورت کے کہ