تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 862

تذکار مہدی — Page 31

تذکار مهدی ) 31 روایات سید نا محمودی چُپ کر کے اپنا کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیتے اور خود بھو کے رہتے یا چنوں وغیرہ پر گزارہ کر لیتے۔ایک شخص نے سنایا کہ میں ایک دفعہ قریباً چالیس دن تک آپ کا مہمان رہا۔آپ با قاعدہ صبح و شام اندر سے جو کھانا آتا وہ مجھے کھلا دیتے اور آپ دانے چبا کر گزارہ کر لیتے۔آپ خود فرماتے ہیں۔لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ اكُلِي الاهَالِي کہ اے لوگو! تم کو یاد نہیں ایک دن میرا یہ حال تھا کہ دستر خوانوں کے بچے ہوئے ٹکڑے میرے کھانے میں آیا کرتے تھے یعنی دوسروں کے رحم و کرم پر میرا گزارہ تھا لیکن آج یہ حال ہے کہ میرے ذریعہ سے کئی خاندان پرورش پا رہے ہیں۔ایسی حالت میں آپ کو خبر دی گئی کہ اسلام کی خدمت کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو کچن لیا ہے۔جس وقت یہ آواز آپ کے کان میں پڑی آپ کی حالت یہ تھی کہ اور لوگ تو الگ رہے خود قادیان کے لوگ بھی آپ کو نہیں جانتے تھے۔میں نے خود قادیان کے کئی باشندوں سے سُنا ہے کہ ہم سمجھتے تھے بڑے مرزا صاحب کا ایک ہی بیٹا ہے دوسرے کا ہمیں علم نہیں تھا۔آپ اکثر مسجد کے حجرے میں بیٹھے رہتے اور دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے۔اُس وقت خدا تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ کو بہت بڑی برکت دے گا اور آپ کا نام عزت کے ساتھ دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا۔یہ الہام بھی ایک عجیب موقع پر ہوا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اہلحدیث کے ایک مشہور لیڈر تھے جب وہ نئے نئے مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی پڑھ کر آئے تو اُس وقت حنفیوں کا بہت زور تھا اور اہلحدیث کم تھے۔مولوی محمد حسین صاحب جب تعلیم سے فارغ ہو کر بٹالہ میں آئے تو ایک شور مچ گیا کہ یہ مولوی لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے۔اتفاقاً انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اپنے کسی کام کے لئے بٹالہ تشریف لے گئے۔لوگوں نے زور دیا کہ آپ چلیں اور مولوی محمد حسین صاحب سے بحث کریں کیونکہ وہ بزرگوں کی ہتک کرتا ہے اور اسلام پر تبر چلا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن کے ساتھ جامع مسجد میں چلے گئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی وہیں