تذکار مہدی — Page 676
6 676 ☀ تذکار مهدی ) روایات سید نا محمودی لوگوں میں ولی مشہور ہو جائے لیکن باوجود سارا دن عبادت کرنے کے اور ہر وقت مسجد میں رہنے کے جب وہ باہر نکالتا تو لڑکوں نے اُس سے مذاق کرنا اور عورتوں نے بھی اس کی طرف انگلیاں اٹھا کر کہنا کہ یہ بڑا منافق انسان ہے۔اس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی ایمان نہیں پایا جاتا۔محض ریاء کاری کے لیے نمازیں پڑھتا ہے۔یہاں تک کہ چھ سات سال گزر گئے وہ برابرلوگوں میں بزرگ اور ولی مشہور ہونے کے لیے نمازیں پڑھتا رہا اور لوگ اُسے منافق اور ریاء کار کہتے رہے۔آخر سات سال گزرنے پر اُسے خیال آیا کہ میں نے تو اپنی عمر برباد کر دی۔جس چیز کو حاصل کرنے کے لیے میں نمازیں پڑھتا رہا وہ اب تک مجھے حاصل نہیں ہوئی۔میں چاہتا تھا کہ لوگوں میں ولی مشہور ہو جاؤں مگر لوگ مجھے منافق اور ریاء کار کہتے رہے۔اب میں اس بے ایمانی کو چھوڑتا ہوں اور خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کرتا ہوں۔چنانچہ وہ جنگل میں چلا گیا۔اس نے وضو کیا اور پھر نماز میں کھڑے ہو کر اللہ تعالی سے دعا کی کہ الہی ! اتنے عرصہ تک میں نے بناوٹی ولی بننے کی کوشش کی۔مگر نہ میں بناوٹی ولی بنا اور نہ ہی مجھے تو ملا۔اب دنیا والے مجھے جو چاہیں کہیں مجھے ان کی پروا نہیں میں صرف تیری رضا کے لیے عبادت کروں گا اور صرف تجھ سے تعلق رکھوں گا۔اس کے بعد وہ مسجد میں آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سچے دل سے عبادت شروع کر دی۔ابھی اُس کے اس عزم پر چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ لوگ اس کی طرف انگلیاں اٹھا کر اشارہ کرنے لگے کہ یہ تو بڑا بزرگ ہے۔اس کے چہرے سے تو خدا تعالیٰ کا نور ظاہر ہوتا ہے تو جب کوئی خدا کا ہو جائے تو لوگ اُسے تبلیغ سے خواہ کتنا روکیں آپ ہی آپ تبلیغ ہوتی چلی جاتی ہے۔کیونکہ اس کا منہ بتا رہا ہوتا ہے کہ اُس پر خدائی نور چمک رہا ہے۔لوگ ایک دوسرے کو اُس کی طرف آنے سے روکتے ہیں۔مگر خدا آپ لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے اور انہیں ہدایت کے قبول کرنے کے لیے کھینچ کر لے آتا ہے۔اور جب خدا کسی کو آپ تحریک کرے تو اور کون ہے جو اُسے روک سکے۔یہ لوگ زید کو کہہ سکتے ہیں کہ تم کسی کومت تبلیغ کرو اور زید اس ہدایت کی پابندی کرے گا۔لیکن جب خدا کسی سے کہے گا کہ جا اور زید سے جا کر پوچھ کہ یہ کیا بات ہے؟ تو وہ اُس شخص کو زید کے پاس آنے سے کس طرح روک سکیں گے۔وہ تو کہے گا کہ مجھے خدا نے تمہاری طرف بھیجا ہے میں اُس وقت یہاں سے نہیں ہلوں گا جب تک میں تم سے یہ دریافت نہ کرلوں کہ وہ کیا چیز ہے جو تم دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہو۔(خطبات محمود جلد 34 صفحہ 206-205)