تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 675 of 862

تذکار مہدی — Page 675

تذکار مهدی ) 675 نامحمودی روایات سیّد نا محمود ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گی۔پس تم اپنے دلوں میں یہ اقرار کرو کہ جھوٹ نہیں بولوں گی۔جھوٹ کے یہ معنی نہیں کہ تم ہر ایک کو اپنی بات بتلاؤ۔مثلاً اگر کسی چور کی بیوی تمہارے پاس راز لینے آتی ہے تو تم اس سے کہہ سکتی ہو کہ میں نہیں بتاتی جاؤ نکل جاؤ۔یہ جھوٹ نہیں ہو گا لیکن یہ ضرور جھوٹ ہو گا کہ تم اسے اصل جگہ چھپا کر دوسری جگہ بتاؤ۔پس آج تمام احمدی عورتیں کان کھول کر سن لیں کہ عورت کی بیعت میں یہ عہد شامل ہے اور جو جھوٹ بولے گی وہ خود اپنی بیعت کی شرط کو توڑنے والی قرار پائے گی۔وَ اِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا پھر مؤمن کی یہ علامت بتلائی کہ جب وہ کوئی لغو بات دیکھتا ہے تو اس کے پاس سے گزر جاتا ہے لیکن یہ بات نہایت ہی افسوسناک ہے کہ عورت ہمیشہ لغویات کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔مثلاً بلا وجہ دوسری سے پوچھتی رہتی ہے کہ یہ کپڑا کتنے کا لیا، یہ زیور کہاں سے بنوایا اور جب تک اس کی ساری ہسٹری معلوم نہ کر لے اسے چین نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔اس نے تنگ آ کر اپنے گھر کو آگ لگا دی۔لوگوں نے پوچھا کچھ بچا بھی؟ اس نے کہا سوائے اس انگوٹھی کے کچھ نہیں بچا۔ایک عورت نے پوچھا بہن تم نے یہ انگوٹھی کب بنوائی تھی؟ یہ تو بہت خوبصورت ہے۔وہ کہنے لگی اگر یہی بات تم پہلے پوچھ لیتیں تو میرا گھر کیوں جاتا۔یہ عادت عورتوں سے ہی مخصوص نہیں بلکہ مردوں میں بھی ہے۔اَلسَّلامُ عَلَيْكُمُ کے بعد پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں جاؤ گے؟ کیا کام ہے؟ آمدنی کیا ہے؟ بھلا دوسرے کو اس معاملہ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ انگریزوں میں یہ کبھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ تو کہاں ملازم ہے؟ تعلیم کتنی ہے؟ تنخواہ کیا ملتی ہے؟ وہ کبھی کریدنے کا خیال نہیں کرتے۔نمائش کی عبادت (مستورات سے خطاب، انوارالعلوم جلد 15 صفحہ 397 ) حقیقت یہ ہے کہ سچائی کے لیے کسی بڑی نمائش کی ضرورت نہیں ہوتی۔سچائی انسان کے عمل سے ثابت ہو جاتی ہے اور خواہ کتنا ہی کسی کو دبایا جائے ، کتنا ہی کسی کو مٹایا جائے اگر اس کے دل میں نور ہو تو وہ کبھی چُھپ نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص کے دل میں ریا تھا اُس نے مسجد میں رات دن عبادت شروع کر دی تا کہ کسی طرح وہ