تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 862

تذکار مہدی — Page 665

تذکار مهدی ) 665 خدا تعالیٰ کے وعدوں پر ہمیں اتنا یقین ہے کہ جتنا اپنی جان پر بھی نہیں۔دوسرے کو اس کا حق دلانا روایات سید نا محمود ( خطبات محمود جلد 16 صفحہ 344-343 ) | حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک صحابی اپنا گھوڑا دوسرے صحابی کے پاس فروخت کرنے کیلئے لایا اور اس کی قیمت مثلاً دوسو روپیہ بتائی دوسرے صحابی نے کہا کہ میں اس قیمت پر گھوڑا نہیں لے سکتا کیونکہ اس کی قیمت دگنی ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو گھوڑوں کی قیمت سے واقفیت نہیں لیکن مالک نے زیادہ قیمت لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب میرا گھوڑا زیادہ قیمت کا نہیں تو میں کیوں زیادہ قیمت لوں اور اس پر ان کی تکرار ہوتی رہی یہاں تک کہ ثالث کے ذریعہ سے انہوں نے فیصلہ کرایا۔یہ اسلامی روح تھی جوان دوصحابیوں نے دکھلائی۔اسلام کا حکم یہی ہے کہ ہر شخص بجائے اپنا حق لینے اور اس پر اصرار کرنے کے دوسرے کے حق کو دینے اور اُسے قائم کرنے کی کوشش کرے جس وقت یہ روح قائم ہو جائے اُس وقت ساری سٹانگیں آپ ہی آپ بند ہو جاتی ہیں مگر کم سے کم نیکی یہ ہے کہ جب کسی کی طرف سے اپنے حق کا سوال پیدا ہو تو وہ حق اُسے دے دیا جائے۔یہ غیر اسلامی روح ہے کہ چونکہ دوسرے کے حق پر ہم ایک لمبے عرصہ سے قائم ہیں اور اس حق کو اپنا حق سمجھنے کی ایک عادت ہمیں ہوگئی ہے اس لئے ہم دوسرے کو وہ حق نہیں دے سکتے۔اسلامی روح یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرے کا حق ہو اور یہ اس پر عرصہ سے قبضہ جمائے بیٹھا ہو تو اُس کے دل میں اور بھی ندامت پیدا ہونی چاہئے کہ میں نے اتنا عرصہ ناجائز طور پر دوسرے کے حق کو غصب کیا اور اس سے فائدہ اُٹھاتا رہا۔صلى الله خطبات محمود جلد 17 صفحہ 138-137 ) دنیا میں محبت کا بہترین مظاہرہ یہ الہی نصرت تھی جس نے اُس وقت جب انسانی تدابیر بریکار ہوچکی تھیں آسمان سے نازل ہوکر رسول کریم ہے اور آپ کے صحابہ کو نجات دی۔پس آسمانی نصرت اُسی وقت آتی ہے جب ساری تدابیر انتہاء کو پہنچ کر ختم ہو جاتی ہیں اور کامیابی کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتیں۔جب وہ دنیا دار نگاہوں میں مضحکہ خیز اور روحانی نظر والوں کیلئے رقت انگیز ہو جاتی ہیں اُس وقت خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلتے ہیں مگر اس کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ بندہ چلائے۔