تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 862

تذکار مہدی — Page 28

تذکار مهدی ) 28 روایات سید نامحمودی دادا جلال میں آگئے اور کہنے لگے تم چغتائیوں کو بھی یہ جرات ہو سکتی ہے کہ ہم سے لڑکیاں مانگو۔جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ ہمیں نہیں منظور۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہمارے باپ کے غرور کا ہی یہ نتیجہ نکلا کہ ان کی وفات کے بعد ہماری تین لڑکیاں ان کے خاندان میں بیاہی گئیں جن میں سے ایک تو یہی ہماری پھوپھی تھیں اور ایک اور چچا کی لڑکی تھی اس طرح ان کے گھر میں ہماری لڑکیوں کا اچھا خاصا اجتماع ہو گیا۔پھر نہ صرف ہماری لڑکیاں ہی ان کے ہاں گئیں بلکہ ہماری جائیدادیں بھی ان کے قبضہ میں جانی شروع ہوئیں یہاں تک کہ قادیان کے سوا ہماری ساری جائیداد ان لوگوں کے پاس چلی گئی۔چنانچہ راج پورہ جو میں نے بعد میں میں ہزار روپیہ میں خریدا وہ انہی لوگوں کے پاس چلا گیا تھا پھر محلہ دارالرحمت جہاں بنا ہے وہ حصہ بھی ان لوگوں کے پاس چلا گیا تھا یہ جائیداد ان کے پڑپوتے مرزا اکرم بیگ نے ایک سکھ کے پاس اٹھارہ ہزار روپے میں بیچ دی تھی جو بعد میں حق شفعہ کے ذریعے ہم نے واپس لی۔مرزا اکرم بیگ کے والد مرزا افضل بیگ صاحب ایک ریاست میں سپرنٹنڈنٹ پولیس تھے اور ناچ گانے کا انہیں شوق تھا شراب کی بھی عادت پڑی ہوئی تھی مگر آخر میں انہوں نے ان تمام عادتوں سے توبہ کر لی اور قادیان آگئے بیعت کے بعد وہ ایک دفعہ بیمار ہوئے اور علاج کے لئے لاہور گئے تو ڈاکٹر نے کہا کہ اگر آپ تھوڑی سی شراب پی لیں تو آپ بچ سکتے ہیں۔وہ کہنے لگے ایک دفعہ میں نے شراب سے توبہ کرلی ہے اب میں نہیں پیوں گا چنانچہ وہ مر گئے لیکن انہوں نے شراب کو نہیں چھوا غرض بیعت کے وقت جو انہوں نے عہد کیا تھا اُس پر وہ پورے اُترے لیکن ان کا بیٹا اچھا نہ نکلا اُس نے دار الرحمت والی زمین ایک سکھ کے پاس بیچ دی تھی۔شیخ مختار احمد صاحب ایک غیر احمدی بیرسٹر تھے جو ہم سے بہت محبت رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے انہوں نے مجھے لکھا کہ آپ کی اتنی قیمتی جائیداد ہے جو اکرم بیگ نے فلاں سکھ کو اٹھارہ ہزار روپیہ میں دے دی ہے۔یہ بڑی قیمتی جائیداد ہے اگر آپ اٹھارہ ہزار روپیہ کا بندو بست کر لیں تو یہ جائیداد آپ واپس لے لیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بہت ہی قیمتی جائیداد تھی۔چنانچہ بعد میں ہم نے اس سے پانچ لاکھ روپیہ کمایا۔( خطبه جمعه بیان فرمودہ 28 مارچ 1958 ء۔الفضل ربوہ 12 اپریل 1958ء جلد 47/12 نمبر 86 صفحہ 5-4)