تذکار مہدی — Page 594
تذکار مهدی ) 594 نامحمودی روایات سیّد نا محمود لیا وہ دم ہلاتا جاتا تھا اور پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔اس بزرگ نے سمجھا کہ اس روٹی میں اس کا بھی حق ہے۔کیونکہ اس گھر کی نگرانی کرتا ہے اور اس نے ایک روٹی پر سالن کا تیسرا حصہ ڈال کر اسے ڈال دی۔کتے نے وہ کھالی اور پھر پیچھے پیچھے چل پڑا۔بزرگ نے خیال کیا کہ بے شک اس کا حق زیادہ حصہ ہے کیونکہ یہ اس گھر کا محافظ ہے اور ایک روٹی پر سالن کا ایک اور حصہ ڈال کر اس کے آگے پھینک دی مگر کتا وہ کھا کر بھی پیچھے چل پڑا۔ادھر اس بزرگ کو خود سخت بھوک لگی تھی۔وہ کہنے لگا کہ تو بڑا بے حیا ہے میں تین میں سے دو روٹیاں تجھے دے چکا ہوں مگر پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔یہ کہنا تھا کہ معا کشف کی حالت پیدا ہوئی۔وہ دنیا کی حالت کو بالکل بھول گئے۔کتے کی روح متمثل ہو کر ان کے سامنے آئی اور کہا کہ تم مجھے بے حیا کہتے ہو حالانکہ میں تو کتا ہوں اور تم انسان ہو۔مجھے سات سات فاقے اس گھر میں آئے اور میں نے اس ڈیوڑھی کو نہیں چھوڑا۔مگر تمہیں تین دن کا فاقہ آیا اور تم چھوڑ کر شہر کو آ گئے۔بتاؤ بے حیا میں ہوں یا تم ہو۔یہ بات سن کر ان کی آنکھیں کھل گئیں اور تیسری روٹی بھی معا سالن سمیت کتے کے آگے پھینک دی۔جب واپس اپنے مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص نہایت پر تکلف کھانے لئے بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کہاں چلے گئے تھے۔میں انتظار میں تھا تو تو کل کا مقام یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نظر نہ رکھے اور توکل کے یہ معنی بھی نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ کی جستجو کرنے والوں کے لئے سامان کرنے منع ہیں۔سامان بھی کئے جا سکتے ہیں۔تجارت۔نوکری۔زراعت وغیرہ سب کام کرنے جائز ہیں مگر نظر خدا تعالیٰ پر ہی ہونی چاہئے کہ وہی سب ضروریات پوری کرے گا حضرت خلیفہ اول کے اسی سفر کا واقعہ ہے جس کا میں اوپر ذکر چکا ہوں آپ سنایا کرتے تھے کہ میرے پاس دوصدریاں تھیں جو بہت قیمتی تھیں اور مجھے ان پر بہت ناز تھا۔گویا بڑی دولت تھی۔مگر ایک روز میں اس حجرہ سے جہاں ٹھہرا ہوا تھا باہر گیا تو کسی نے ان میں سے ایک پھر الی۔آپ فرماتے مجھے صدمہ تو بہت ہوا مگر مجھے خیال آیا کہ جس چیز کی نگرانی میں نہیں کر سکتا اُسے رکھنے کا کیا فائدہ اور دوسری خود لے جا کر خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دی۔اس کے بعد وہ لوگ آئے جو شہزادہ کے علاج کے لئے آپ کو لے گئے۔تو تو کل کے یہ معنے نہیں کہ انسان د نیوی سامان نہ کرے بلکہ یہ ہیں کہ نظر خُد اتعالیٰ پر ہو۔اس کے سوا نظر کسی پر نہ ہو۔( الفضل 8 رنومبر 1939 ءجلد 27 نمبر 257 صفحہ 6 تا 8 )