تذکار مہدی — Page 18
تذکار مهدی ) 18 روایات سید نامحمودی میرے دادا صاحب نے انگریزی حکومت سے خفیہ ساز باز نہ کیا اور غالباً اسی وجہ سے ان کے مقبوضہ علاقہ کو گورنمنٹ نے ضبط کر لیا اور لمبے مقدمات کے بعد صرف قادیان کی ملکیت اور اس کے پاس کے تین گاؤں کی ملکیت اعلیٰ ہمارے خاندان کو ملی۔میری غرض اس تمہید سے یہ ہے کہ قادیان اور اس کے پاس کے اکثر گاؤں اسلامی زمانہ کے آباد شدہ ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی بناء پڑی ہے۔پس ان کے ساتھ کوئی ہندو روایات وابستہ نہیں ہیں وہ شروع سے اسلامی روایات کے پابند رہے ہیں اور سوائے سکھوں کی حکومت کے چالیس پچاس سالہ عرصہ کے وہ کبھی بھی اسلامی حقوق کی بجا آوری سے محروم نہیں ہوئے۔اس وقت بھی قادیان کی زرعی زمین کے مالک صرف میں اور میرے بھائی ہیں اور محض تھوڑی سی زمین بعض احمدی احباب کے قبضہ میں ہے جنہوں نے وہ زمین ہم ہی سے بغرض آبادی حاصل کی ہے۔ہندو اور سکھ صرف بطور مزارعان یا غیر مالکان آباد ہیں اور وہ بھی نہایت قلیل تعداد میں یعنی بمشکل کل آبادی کا قریباً ساتواں حصہ۔باوجود ان حالات کے اول میرے دادا صاحب نے اور بعد میں میرے والد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اور ان کے بعد میں نے قادیان میں گائے کے ذبیحہ کو محض اس وجہ سے روکے رکھا کہ اس وقت تک اس کی اقتصادی طور پر زیادہ ضرورت نہیں معلوم ہوتی تھی - اور ہم پسند نہیں کرتے تھے کہ خواہ مخواہ ہماری ہمسایہ اقوام کا دل دکھایا جائے۔قادیان کے کئی ہندو اس امر کی شہادت دے سکتے ہیں کہ چند سال ہوئے کہ جب بعض لوگوں نے قادیان کے ملحقہ گاؤں سے مذبح کی درخواست دی تو میں نے حکام کو کہلا کر مدیح کو رکوا دیا اور ایک معزز ہندو صاحب کی تحریر بھی اس بارہ میں میرے پاس موجود ہے جو بوقت ضرورت پیش کی جاسکتی ہے۔علاوہ ازیں اس امر کا ثبوت کہ اپنے ہمسایوں کے احساسات کا میں نے پورا خیال رکھا ہے یہ بھی ہے کہ جس حد تک قانون گائے ذبح کرنے کو جائز قرار دیتا ہے، میں اس سے بھی جماعت کو برابر روکتا رہا ہوں بلکہ بعض لوگوں کو تو یہ معلوم ہونے پر کہ انہوں نے اس معاملہ میں فتنہ کا طریق اختیار کیا ہے، میں نے چھ چھ ماہ یا سال سال کے لئے (مسئلہ ذبیحہ گائے۔انوارالعلوم جلد 11 صفحہ 5-3 ) قادیان سے نکال دیا۔کپورتھلہ کی طرف ہجرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے جب سکھوں نے قادیان فتح کر