تذکار مہدی — Page 547
تذکار مهدی ) 547 روایات سیّد نا محمود آپ غیر معمولی رنگ میں کام کر رہے تھے کہ یک دم آپ بیمار ہو گئے۔اب اگر چہ آپ تندرست ہو گئے ہیں لیکن آپ کا دماغ بیماری کے خیال میں دب گیا ہے۔اگر آپ اس خیال کو اپنے دماغ سے نکال دیں تو آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں بتائی ہے کہ میں بدظنی اور مایوسی کی وجہ سے اپنے آپ کو بیمار سمجھتا ہوں ورنہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بالکل صحت عطا فرما دی ہے۔چنانچہ یہ بالکل درست ہے۔اللہ تعالی کے فضل سے اب بیماری کا کوئی اثر باقی نہیں رہا۔صرف کام کرنے کے بعد ایک کوفت سی میں اپنے جسم میں محسوس کرتا ہوں لیکن یہ ایک طبعی امر ہے کیونکہ جب انسان پر کسی بیماری کا حملہ ہو چکا ہو تو وہ جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔پھر میری عمر بھی زیادہ ہو چکی ہے مگر یہ خدا تعالیٰ کا نشان ہی ہے کہ میں نے ان دنوں میں قرآن کریم کے بائیس پاروں کا ترجمہ مکمل کر لیا ہے اور امید ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے طاقت دی تو اگست کے آخر یا ستمبر کے شروع میں سارا ترجمہ ختم ہو جائے گا۔اب ایک تندرست آدمی بھی اتنا علمی کام اتنے تھوڑے عرصہ میں نہیں کر سکتا مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام کے کرنے کی توفیق عطا فرما دی ہے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دے دی ہے۔آخر دنیا میں بڑے بڑے علماء موجود ہیں انہیں کیوں یہ توفیق نہیں ملتی کہ وہ اتنے قلیل عرصہ میں قرآن کریم کا ترجمہ کر دیں۔اور پھر یہ ترجمہ معمولی ترجمہ نہیں بلکہ جب یہ چھپے گا تو لوگوں کو پتا لگے گا کہ یہ ترجمہ کیا ہے، تفسیر ہے۔پس جو کام بڑے بڑے علماء پانچ سال کے عرصہ میں بھی نہیں کر سکتے تھے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میں نے تھوڑے سے عرصہ میں کر لیا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دے دی ہے اور خدا تعالیٰ کے تازہ الہام سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص مجھ سے سوال کرے کہ پھر اپنے آپ کو بیمار کیوں سمجھتے ہیں؟ تو مجھے اس کا یہی جواب دینا پڑے گا کہ میں صرف بدظنی اور مایوسی کی وجہ سے اپنے آپ کو بیمار سمجھتا ہوں ورنہ حقیقتا اللہ تعالیٰ نے مجھے تندرست کر دیا ہے۔الفضل 8 /اگست 1956 ء جلد 45/10 نمبر 184 صفحہ 4-3) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز اصلاح حضرت صاحب کی اصلاح کا طرز بڑا لطیف اور عجیب تھا۔ایک شخص آیا اس نے