تذکار مہدی — Page 529
تذکار مهدی ) صداقت کا نشان دیکھنے کی خواہش 529 روایات سید نا محمودی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے کہ امریکہ کا ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات کے لئے قادیان آیا اور اُس نے کہا کہ آپ مجھے اپنی صداقت کا کوئی نشان دکھا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے فرمایا آپ خود میری صداقت کا ایک نشان ہیں۔اس نے کہا یہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اس وقت جب مجھے قادیان سے باہر کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔الہاما بتایا تھا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ یعنی اللہ تعالیٰ دور دراز علاقوں سے تیرے پاس آدمی بھیجے گا اور وہ اتنی کثرت سے آئیں گے کہ جن راستوں پر وہ چلیں گے ان میں گڑھے پڑ جائیں گے۔اب آپ بتائیں کہ کیا میرے دعویٰ سے قبل آپ میرے واقف تھے۔اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا پھر آپ جو یہاں میرا دعویٰ سن کر آئے ہیں۔تو الہی تصرف کے ماتحت ہی آئے ہیں۔پس آپ خود میری صداقت کا ایک نشان ہیں۔اسی طرح آپ لوگ جو یہاں جمع ہوئے ہیں۔آپ میں سے بھی ہر فرد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے۔کجاوہ زمانہ تھا کہ قادیان میں جب پہلا سالانہ جلسہ ہوا تو اس میں صرف چھہتر 75 آدمی شریک ہوئے اور کجا یہ زمانہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے نصف لاکھ سے زیادہ مخلصین اس جلسہ میں شریک ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے اور دنیا کے سامنے اس امر کا کھلے بندوں اعلان کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہو گیا مگر سلسلہ کی یہ عظیم الشان ترقی جہاں ہمارے دلوں کو خوشی سے لبریز کر دیتی ہے۔وہاں غم و اندوہ کی ایک درد ناک تلخی بھی اس میں ملی ہوئی ہے کیونکہ یہ خوشی جس مقدس انسان کے طفیل ہمیں میسر آئی وہ آج اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔خود میرے احساسات کی تو یہ حالت ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سلسلہ کی خدمت کی اور اس دنیا سے گزر گئے وہ مجھے آج تک نہیں بھولے۔میری نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات آج بھی اسی طرح تازہ ہے۔جس طرح اس دن تھی جس دن آپ کا وصال ہوا پھر میری نظر میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات آج بھی اسی طرح تازہ ہے جس طرح اس دن تھی جب آپ کا انتقال ہوا کیونکہ میرے نزدیک وہ شخص جو اپنے کسی احسان کرنے والے کو بھول جاتا ہے وہ پرلے درجہ کا حسن کش ہے۔الفضل 2 جنوری 1962ء جلد 51/16 نمبر 1 صفحہ 3)