تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 862

تذکار مہدی — Page 528

528 روایات سید نا محمود تذکار مهدی ) کی پیشگوئی فرمائی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء سابق کے کلام میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک ایسا مرض پھوٹے گا۔پس جب ملک میں طاعون پھوٹا اور سخت زور سے پھوٹا تو دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوا اور ہزاروں لوگ جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔گویا طاعون کی شدّت اس کا دیر تک رہنا اور لاکھوں جانوں کی اس سے ہلاکت۔جماعت کی ترقی کا باعث ہوئی۔پھر پیشگوئی کا پورا ہونا اپنی ذات میں خوشی کی بات ہے۔مگر ایسے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نمونہ پیش کیا۔وہ عجیب اور مومنوں کے لئے اسوہ ہے۔آپ نے مکان میں ایک جگہ بیت الدعا بنایا ہوا تھا۔وہ اب بھی موجود ہے۔چھوٹی سی جگہ ہے۔جہاں دو آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔آپ رات یا دن کے وقت جب بھی دعا کرتے۔بالعموم یہیں کرتے تھے۔جب یہ جگہ تعمیر ہونے لگی تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ اگر ایسا ہی کمرہ اس کی چھت پر اور بن جائے۔تو میں بھی وہاں حضور کے ساتھ دعا میں شریک ہو جایا کروں۔چنانچہ آپ نے اس کے اوپر بھی کمرہ بنوا دیا اور مولوی صاحب بھی وہاں جا کر دعا کیا کرتے تھے۔مولوی صاحب کا بیان ہے کہ ایک دفعہ نیچے کے کمرہ سے رونے اور گریہ وزاری اور کراہنے کی آواز آرہی تھی۔اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی عورت دردزہ سے کراہ رہی ہے۔میں نے کان لگا کر سننا شروع کیا کہ کیا بات ہے۔تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دُعا کر رہے ہیں اور گریہ و زاری کرتے ہوئے آہستہ آہستہ عرض کر رہے ہیں کہ الہی اگر تیرے بندے اسی طرح طاعون سے مرتے گئے تو پھر ایمان کون لائے گا۔کتنے احمدی ہیں۔جو کسی اندازی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ایسا نمونہ دکھاتے ہیں۔عام طور پر ایسے موقع پر ایک ہی پہلو سامنے ہوتا ہے۔یعنی پیشگوئی پورا ہونے پر خوشی کا پہلو۔مگر یہ طریق غلط ہے۔یہ خوشی کا ہی موقع نہیں ہوتا۔بلکہ متضاد جذبات کا وقت ہوتا ہے۔ایک طرف تو خوشی ہوتی ہے کہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے اور ددوسری طرف رنج کہ اللہ تعالیٰ کے بندے عذاب میں مبتلا ہو رہے ہیں۔پس ایسے وقت میں مومن کے دل میں متضاد جذبات پیدا ہونے چاہئیں۔( خطبات محمود جلد 22 صفحہ 241 تا 243 )