تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 862

تذکار مہدی — Page 509

تذکار مهدی ) 509 روایات سید نا محمود آنے دیتے ہو۔حالانکہ اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بھی یہ کافی تھے۔روپیہ مہنگا تھا اور میرا خیال ہے کہ اس وقت وزیر کی تنخواہ بھی دو تین سو روپیہ ہی ہوتی ہوگی۔لیکن باوجود اس کے کہ وہ مخیر آدمی تھے اور جو حاجت مند آتا۔جو کچھ ممکن ہوتا اسے دے دیتے۔مگر اس محتاج نے شور مچا دیا اور کام کرنا مشکل کر دیا۔آپ نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ بعض نہ آیا اور کام میں حرج کرنے لگا۔آخر مجبور ہو کر آپ نے نوکر سے کہا کہ اسے پولے پولے (نرم نرم) دھکے مار کر باہر نکال دو۔گو وہ مجبور ہو گئے کہ دھکے مار کر اسے باہر نکالیں۔مگر شرافت کی وجہ سے سے پولے پولے دھکے مارنے کی ہدایت بھی ساتھ ہی کر دی۔تو انسان اگر نرمی اور محبت کو اپنا شعور بنالے۔تو لڑائی میں بھی ایسے الفاظ استعمال کئے جا سکتے ہیں کہ جو سخت نہ ہوں۔جس طرح فقیر صاحب کی مثال میں نے دی ہے۔یادرکھنا چاہئے کہ سخت کلامی اخلاص پر دلالت نہیں کرتی۔خطبات محمود جلد 21 صفحہ 128 تا 129) حقیقی مبلغ کی خصوصیات حقیقی مبلغ وہی ہوتا ہے جس کے دل میں ہار جیت کا کوئی سوال نہ ہو۔جس کو ہر وقت یہ خیال رہے کہ اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل گرفت ہو۔کئی دفعہ پہلے بھی یہ واقعہ سنا چکا ہوں کہ جس زمانہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی تعلیم حاصل کر کے بٹالہ آئے تھے۔تو ان کے خلاف بہت شور تھا کہ پیروں فقیروں کے منکر ہیں۔لوگ ان کی بہت مخالفت کرتے تھے۔انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی وہاں تشریف لے گئے بعض حنفیوں نے سوچا کہ ہمارے ایک حنفی عالم آگئے ہیں۔ان کو مولوی محمد حسین صاحب کے مقابلہ پر لے چلیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اپنے آپ کو شفی کہا کرتے تھے۔آپ سے لوگوں نے کہا تو آپ نے فرمایا کہ اچھا چلتے ہیں۔اگر کوئی بات ہوئی تو کریں گے۔لوگ مجلس میں اکٹھے ہو گئے آپ بھی تشریف لے گئے۔آپ فرماتے کہ ہم کو اہل حدیث کے متعلق زیادہ واقفیت اس زمانہ میں نہ تھی۔اس لئے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کے عقائد کیا ہیں تا کہ بحث سے پہلے یہ تو معلوم ہو کہ آپ کہتے کیا ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب نے کھڑے ہو کر بیان کیا کہ ہم خدا کو مانتے ہیں۔رسول کو مانتے ہیں۔قرآن کو خدا تعالیٰ کا کلام مانتے ہیں قرآن کریم کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں اور حدیث کو خیالی آراء پر مقدم کرتے ہیں۔غالی اہل حدیثوں