تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 862

تذکار مہدی — Page 498

تذکار مهدی ) 498 روایات سید نا محمود پر اس قوم کے لوگ دوسروں سے بھی انہی خیالات کی توقعات رکھتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہندو ڈ پٹی تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے خاموش ہو گیا ہو گا۔ورنہ وہ ضرور پوچھتا کہ ہمارے ہاں تو بزرگوں کے دو دو سراور چار چار ناک اور کئی کئی آنکھیں ہوتی ہیں۔مگر مرزا صاحب کا تو ایک ہی سر ایک ہی ناک اور دو ہی آنکھیں ہیں۔پھر وہ اور آگے بڑھتا اور کہتا کہ ہمارے ہنومان کی تو دم بھی تھی۔لیکن مرزا صاحب کی تو کوئی دم نہیں۔پھر یہ کیسے مصلح ہو گئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے اسے شرم آ گئی اور اس نے یہ سوالات نہ کیے۔ورنہ وہ یہ باتیں ضرور پوچھتا کیونکہ ہندوؤں میں اپنے بزرگوں کے متعلق اسی قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں اور انہوں نے تصوری زبان میں ان کے کئی کئی سر، کئی کئی آنکھیں، کئی کئی ناک اور کئی کئی ہاتھ دکھائے ہیں۔الفضل 16 نومبر 1956 ، جلد 45/10 نمبر 269 صفحہ 5 محنت اور مشقت کی عادت با وجود اس کے کہ آپ دنیا سے ایسے متنفر تھے۔مگر آپ سست ہرگز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باجود مشقت سے نہ گھبراتے تھے اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کو جب کبھی کسی سفر پر جانا پڑتا تھا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پیادہ ہی سفر کرتے تھے اور سواری پر کم چڑھتے اور یہ عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی اور ستر سال سے متجاوز عمر میں جبکہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں اکثر روزانہ ہوا خوری کے لئے جاتے تھے اور چار پانچ میل روزانہ پھر آتے اور بعض اوقات سات میل پیدل پھر لیتے تھے اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اٹھ کر ( نماز کا وقت سورج نکلنے سے سوا گھنٹہ پہلے ہوتا ہے) سیر کے لئے چل پڑتے تھے اور وڈالہ تک پہنچ کر (جو بٹالہ کی سڑک پر قادیان سے قریباً ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے ) صبح کی نماز کا وقت ہوتا تھا۔(رسالہ ریویو آف ریلیجنز اردو بابت ماہ نومبر 1916 ءجلد 15 نمبر 11 صفحہ 403) رات دیر تک کام کرنے کی عادت میں نے عام طور پر لڑکوں سے سوال کر کے دیکھا اور مجھے معلوم ہوا کہ کثرت سے