تذکار مہدی — Page 497
تذکار مهدی ) کارمهدی 497 روایات سید نا محمود بھاگنے لگتا ہے اور جب وہ کئی کئی ہاتھ دیکھتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ کوئی تیندوا ہے جب کئی کئی سردیکھتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ کوئی عجیب الخلقت حیوان ہے۔جب کئی کئی آنکھیں دیکھتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ کوئی نئی قسم کا سانپ ہے۔حالانکہ وہ ہمارے جیسے ہی انسان تھے۔یہ غلط فہمی جس دن دور ہوگئی اور ہندؤں کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ ان کے دیوتا اور بزرگ بھی انسان ہی تھے۔تو وہ انسانوں سے سبق سیکھنے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور صداقت کو قبول کرنا ان کے لئے کوئی مشکل نہیں رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دن حضرت خلیفہ اول مسجد اقصیٰ سے قرآن کریم کا درس دے کر واپس آ رہے تھے کہ راستہ میں ایک ہندو ڈپٹی جس کا مسجد اقصیٰ کے ساتھ ہی ایک بڑا سا مکان تھا۔بیٹھا ہوا تھا وہ آپ کو دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حکیم صاحب میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا پوچھیں۔اس نے کہا حکیم صاحب میں نے سنا ہے کہ مرزا صاحب بادام روغن اور پلاؤ بھی کھا لیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ڈ پٹی صاحب ہمارے مذہب میں یہ سب چیزیں جائز ہیں اور لوگ انہیں کھا سکتے ہیں۔مرزا صاحب کے لئے بھی ان طیب چیزوں کا کھانا جائز ہے۔اس پر وہ حیران ہو کر کہنے لگا کیا فقروں کو بھی یہ چیزیں کھانا جائز ہیں۔یعنی کیا بزرگوں کے لئے بھی ان چیزوں کا کھانا جائز ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ہمارے مذہب میں فقروں کے لئے بھی پاک چیزیں جائز ہیں۔بلکہ ان کے لئے دوسروں سے زیادہ پاک چیزیں کھانے کا حکم ہے۔اس پر وہ خاموش ہو گیا۔یہ جواب تو شریفانہ تھا۔جو حضرت خلیفہ اول نے اس ڈپٹی کو دیا۔لیکن ایک جواب خلیفہ رجب دین صاحب نے بھی ایک مجسٹریٹ کو دیا تھا۔وہ خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے۔اور ان کی طبیعت بڑی تیز تھی۔ایک دفعہ وہ کسی شہادت کے سلسلہ میں عدالت میں گئے۔تو مجسٹریٹ جو ہندو تھا۔ان سے کہنے لگا لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب پلاؤ قورمہ اور کباب بھی کھا لیتے ہیں۔کیا یہ ٹھیک بات ہے۔خلیفہ رجب دین صاحب نے جواب دیا کہ اسلام میں تو یہ سب چیزیں حلال ہیں اور ان کا کھانا جائز ہے۔لیکن اگر آپ کو یہ چیزیں پسند نہیں تو آپ بے شک پاخانہ کھالیا کریں۔مجسٹریٹ کہنے لگا خلیفہ صاحب آپ تو ناراض ہو گئے انہوں نے کہا میں ناراض تو نہیں ہوا۔میں نے تو صرف آپ کی بات کا جواب دیا ہے۔اصل بات یہ ہے جو وساوس اور شبہات کسی قوم میں راسخ ہو چکے ہوتے ہیں۔عام طور