تذکار مہدی — Page 7
تذکار مهدی ) روایات سید نا محمود صحابہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات جمع کیئے جائیں ایک بات جس کی طرف میں نے اس سال جماعت کو خصوصیت سے توجہ دلائی ہے اور وہ اتنی اہم ہے کہ جتنی بار اس کی اہمیت کی طرف جماعت کو متوجہ کیا جائے کم ہے یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات اور آپ کے کلمات صحابہ سے جمع کرائے جائیں۔ہر شخص جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی یاد ہو اس کا اس بات کو چھپا کر رکھنا اور دوسرے کو نہ بتانا یہ ایک قومی خیانت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض باتیں چھوٹی ہوتی ہیں مگر کئی چھوٹی باتیں نتائج کے لحاظ سے بہت اہم ہوتی ہیں۔اب یہ کتنی چھوٹی بات ہے جو حدیثوں میں آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک دفعہ کد و پکا تو آپ نے شوق سے شور بہ میں سے کدو کے ٹکڑے نکال نکال کر کھانے شروع کر دیئے یہاں تک کہ شور بہ میں کدو کا کوئی ٹکڑا نہ رہا اور آپ نے فرمایا کہ و بڑی اعلیٰ چیز ہے۔اب بظاہر یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے ممکن ہے کئی احمدی بھی سُن کر کہہ دیں کہ کہو کے ذکر کی کیا ضرورت تھی؟ مگر اس چھوٹی سی بات سے اسلام کو کتنا بڑا فائدہ پہنچا ہم آج اپنے زمانہ میں ان خرابیوں کا اندازہ نہیں کر سکتے جو مسلمانوں میں رائج ہوئیں مگر ایک زمانہ اسلام پر ایسا آیا ہے جب ہندو تمدن نے مسلمانوں پر اثر ڈالا اور اس اثر کی وجہ سے وہ اس خیال میں مبتلاء ہو گئے کہ نیک لوگ وہ ہوتے ہیں جو گندی چیزیں کھائیں اور جب بھی وہ کسی کو عمدہ کھانا کھاتے دیکھتے کہتے یہ بزرگ کس طرح کہلا سکتا ہے جب پیر ایسا عمدہ کھانا کھا رہا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں درس دے کر واپس اپنے گھر تشریف لے جا رہے تھے کہ جب آپ وہاں پہنچے جہاں آج کل نظارتوں کے دفاتر ہیں تو یہاں ایک ڈپٹی صاحب ہوا کرتے تھے جو ریٹائرڈ تھے اور ہندو تھے انہوں نے کسی سے سُن لیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پلاؤ کھاتے اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں وہ اُس وقت اپنے مکان کے باہر بیٹھا تھا۔حضرت خلیفہ اول کو دیکھ کر کہنے لگا مولوی صاحب! ایک بات پوچھنی ہے۔فرمانے لگے کیا؟ وہ کہنے لگا جی بادام روغن اور پلاؤ کھانا جائز ہے؟ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ہمارے مذہب میں یہ چیزیں کھانی جائز ہیں۔وہ کہنے لگا جی فقراں نوں بھی جائز ہے؟ یعنی