تذکار مہدی — Page 445
تذکار مهدی ) نمازوں کی لذت 445 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک مجلس میں یہ ذکر ہو رہا تھا کہ کیا کسی نے گندم کی روٹی کھائی ہے۔ان دنوں لوگ زیادہ تر باجرہ جوار اور جو کھاتے تھے گندم شاذ ہی ملتی تھی اور اگر یہ پتہ لگ جاتا کہ کسی کے پاس گندم ہے تو سکھ اس سے چھین لیتے۔تمام لوگوں نے کہا ہم نے تو گندم کی روٹی نہیں کھائی۔صرف ایک شخص نے کہا کہ گندم کی روٹی بڑی مزیدار ہوتی ہے۔دوسروں نے پوچھا کیا تم نے گندم کی روٹی کھائی ہے اس نے کہا میں نے کھائی تو نہیں لیکن گندم کی روٹی ایک شخص کو کھاتے دیکھا ہے۔کھانے والا چٹخارے لے لے کر کھاتا تھا۔جس سے میں نے سمجھا کہ گندم کی روٹی بڑی مزیدار ہوتی ہے۔اب گندم کی روٹی ایک مادی چیز ہے۔کھانے والا چٹخارے مارتا ہے تو دیکھنے والے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس کا مزہ آ رہا ہے۔پھر اس کے چہرہ کے آثار اور اتار چڑھاؤ سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ روٹی بڑی مزیدار ہے۔پھر بعض لوگ پلاؤ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں۔پلاؤ مل جائے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔لیکن روٹی سالن دیا جائے تو اُس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔لیکن نمازوں کے مزے کا کسی دوسرے کو پتا نہیں لگتا۔کیونکہ ان کا مزہ اور لذت مخفی ہوتی ہے۔جن مادی چیزوں کا مزہ مخفی نہیں ہوتا وہ ہر کوئی محسوس کر لیتا ہے۔نمازوں کا جمع کرنا الفضل 17 فروری 1955 ء جلد 44 نمبر 41 صفحہ 3 | حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہی طریق تھا کہ اگر امام اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے دیکھے کہ اب نمازوں کا جمع کرا دینا مناسب ہے تو وہ نماز جمع کرا سکتا ہے۔حضرت رسول کریم ﷺ کے متعلق ثابت ہے کہ آپ نے بغیر کسی ایسی ظاہری وجہ کے جولوگوں کو معلوم ہو۔نمازیں جمع کرائیں اور آپ کے ساتھ صحابہ بھی نمازیں جمع کر لیتے تھے۔اسی طرح سفر پر جاتے وقت جب رسول کریم ﷺ نمازیں جمع کرتے تو دوسرے لوگ بھی نمازیں اکٹھی پڑھتے۔حالانکہ ان میں ایسے بھی ہوتے جو سفر پر جانے والے نہ ہوتے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود یہ السلام بیماری کی وجہ سے گھر میں نمازیں جمع کر لیتے۔جن میں گھر کے اور لوگ بھی شامل ہو