تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 862

تذکار مہدی — Page 423

تذکار مهدی ) 423 روایات سید نا محمود کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔تو اپنے فضل سے مجھے صحت عطا فرما۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھو نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہو گیا اور اسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا۔( تذکرۃ الشہادتین صفحہ 73-72) اب دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مقدمہ پر جا رہے تھے۔آپ چاہتے تھے کہ اس سے پیشتر کتاب مکمل ہو جائے۔مگر آپ سخت بیمار ہو گئے۔اس پر آپ نے حضرت شہید مرحوم کی روح کو جو آپ کے خادموں میں سے ایک خادم تھے۔اپنے سامنے رکھ کر دعا کی کہ البہی اس کی خدمت اور قربانی کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ کتاب لکھنی چاہی تھی تو مجھے اپنے فضل سے صحت عطا فرما اور پھر خدا نے آپ کی اس دعا کو قبول فرمالیا۔چنانچہ آپ نے اس واقعہ کا ہیڈنگ ہی یہ رکھا ہے کہ ایک جدید کرامت مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی۔پس یہ چیزیں صلحاء واتقیاء کے طریق سے ثابت ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود اس رنگ میں کئی بار دعائیں فرمائی ہیں۔جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ مردہ کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ وہ ہمیں کوئی چیز دے گا۔یہ امر صریح ناجائز ہے اور اسلام اسے حرام قرار دیتا ہے۔باقی رہا اس کا یہ حصہ کہ ایسے مقامات پر جانے سے رقت پیدا ہوتی ہے۔یا یہ حصہ کہ انسان ان وعدوں کو یاد دلا کر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کئے ہوں دعا کرے کہ الہی اب ہمارے وجود میں تو ان کو پورا فرما۔یہ نہ صرف ناجائز نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت ہے اور مومن کا فرض ہے کہ برکت کے ایسے مقامات سے فائدہ اٹھائے۔مثلاً جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر دعا کے لئے جائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ الہی یہ وہ شخص ہے جس کے ساتھ تیرا یہ وعدہ تھا کہ میں اس کے ذریعہ اسلام کو زندہ کروں گا۔تیرا وعدہ تھا کہ میں اس کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔تیرا وعدہ تھا کہ اسلام کی فتح میں اس کے ہاتھ پر مقدر کروں گا۔تیرا وعدہ تھا کہ شیطان اس کے ہاتھ سے آخری شکست کھائے گا۔اے ہمارے رب! یہ تیرے وعدے اس شخص سے تھے جو اب مٹی کے ڈھیر تلے مدفون ہے اور اب ان وعدوں کا پورا کرنا ہمارے ہی ذمہ ہے۔پس اے خدا! ہم تجھ سے ان وعدوں کا واسطہ دے کر عرض کرتے ہیں کہ ہم ان کاموں کے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، ہم کمزور ہیں ، ناطاقت ہیں ، گنہگار ہیں اور خطا کار ہیں، جماعت میں ابھی اتنی قربانی کا مادہ اور اس قدر فدائیت نہیں پائی