تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 862

تذکار مہدی — Page 416

تذکار مهدی ) 6 416 روایات سیّد نا محمود رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرائیوٹ سیکرٹری بنے رہے۔اسلام کی ابتدائی تاریخ کو دیکھا جائے۔تو وہاں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں۔جو دنیا کو چھوڑ کر دین کے ہو گئے تھے اور عیسائیوں میں تو اب تک یہ نمونہ موجود ہے اور میں نے جماعت کے نوجوانوں سے یہی دریافت کیا تھا کہ اب وہ نمونہ کیوں قائم نہیں رہا۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے لوگوں کو صرف ان لوگوں سے نمونہ حاصل کرنا چاہئے۔جو سادہ ہیں اور دعائیں کرنا جانتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن سے مسلمانوں کا احیاء وابستہ ہے۔( الفضل 18 فروری 1956 ء جلد 45/10 نمبر 42 صفحہ 4 ) حضرت میر ناصر نواب صاحب مجھے یاد ہے کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک شخص نے کچھ بے جا الفاظ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے متعلق کہے۔لوگوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔وہ شخص ضدی تھا لوگ اسے مارتے جاتے مگر وہ یہی کہتا جاتا کہ میں تو یہی کہوں گا۔لوگ اسے پھر مارنا شروع کر دیتے اور یہ جھگڑا بڑھ گیا۔ہم اس وقت چھوٹی عمر کے تھے۔ہمارے لئے یہ ایک تماشہ بن گیا۔وہ مار کھاتا جاتا اور کہتا جاتا کہ میں تو یہی کہوں گا۔لوگ اسے ہارتے یہاں تک کہ وہ اسے مار مار کر تھک گئے۔ان دنوں ایک غیر احمد کی پہلوان حضرت خلیفتہ اسی الاول کے پاس علاج کے لئے آیا ہوا تھا۔( آپ اس وقت خلیفہ اسیح نہیں تھے۔اُس نے جب یہ شور سنا تو خیال کیا۔میں کیوں اس ثواب سے محروم رہوں۔مجھے بھی اس میں حصہ لینا چاہئے۔چنانچہ وہ گیا اور اسے سمجھیری کی طرح اٹھا کر زمین پر دے مارا۔لیکن وہ گر کر یہی کہتا۔میں تو یہی کہوں گا۔ہمارے لئے یہ ایک تماشا بن گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب معلوم ہوا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ کیا ہماری یہی تعلیم ہے۔دیکھو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں لیکن ہمارا اس سے کیا بگڑ جاتا ہے۔اگر اس نے کچھ بے جا الفاظ مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق بھی استعمال کر دیئے تو کیا ہو گیا اور تو اور ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے جب یہ دیکھا۔تو آپ وہاں گئے اور لوگوں سے کہا۔یہ کیا لغو بات ہے کہ تم اس شخص کو مارنے لگ گئے ہو۔مگر ابھی آپ یہ نصیحت کر ہی رہے تھے کہ اس شخص نے پھر وہی الفاظ دہرائے۔جو اس نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے متعلق کہے تھے۔اس پر میر صاحب نے خود بھی اسے دو چار تھپڑ لگا دیئے۔تو بسا اوقات