تذکار مہدی — Page 410
تذکار مهدی ) کارمهدی 6410 روایات سید نامحمود چلا جا رہا تھا اور زخم پر ہاتھ لگا کر کہتا جاتا تھا کہ یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو۔یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو۔اسی طرح گو یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ہے لیکن آجکل کے منافق کہہ سکتے ہیں کہ خدا کرے یہ بات (الفضل 16 نومبر 1956 ءجلد 45/10 شماره 269 صفحہ 3) جھوٹ ہی ہو۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی بے مثال قربانی سب انبیاء کی جماعتوں کو درجہ بدرجہ قربانی کرنی پڑتی ہے اس وقت جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے اکثر ہیں جن کو اپنے وطن قربان کرنے پڑے۔پھر اب قادیان میں حالات کچھ درست ہو گئے ہیں اور کچھ تجارتیں چل نکلی ہیں مگر جو لوگ ابتدائی زمانوں میں یہاں آئے ان کے گزارہ کی یہاں کوئی صورت نہ تھی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے ایک اعلیٰ درجہ کی ملازمت عطا فرمائی تھی وہ چھوٹی تو آپ نے اپنے وطن میں پریکٹس شروع کی وہاں آپ کی بہت شہرت تھی۔آپ کا وطن بھیرہ سرگودھا کے ضلع میں ہے۔جہاں بڑے بڑے زمیندار ہیں اور ان میں سے اکثر آپ کے بڑے معتقد تھے۔پس وہاں کام چلنے کا خوب امکان تھا لیکن آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے قادیان آئے چند روز بعد جب واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دنیا کا آپ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں اب یہیں آ بیٹھئے آپ نے اس ارشاد پر ایسا عمل کیا کہ خود سامان لینے بھی واپس نہ گئے بلکہ دوسرے آدمی کو بھیج کر سامان منگوایا۔اس زمانہ میں یہاں پریکٹس چلنے کی کوئی امید نہ تھی بلکہ یہاں تو ایک پیسہ دینے کی حیثیت والا بھی کوئی نہ تھا مگر آپ نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔پھر بھی آپ کی شہرت ایسی تھی کہ باہر سے مریض آپ کے پاس پہنچ جاتے تھے اور اس طرح کوئی نہ کوئی صورت آمد کی پیدا ہو جاتی تھی۔مگر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی قربانی ایسے رنگ کی تھی کہ کوئی آمد کا احتمال بھی نہ تھا نہ کہیں سے کسی فیس کی امید تھی نہ کوئی تنخواہ تھی اور نہ وظیفہ کسی طرف سے کسی آمد کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔مگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے تھے۔اس وقت جتنے کام تمام محکمے کر رہے ہیں یہ سب وہ اکیلے کرتے تھے حالانکہ گذارہ کی کوئی صورت نہ تھی اور یہ بھی وادٍ غَيْرِ ذِي زَرْع میں جان قربان کرنے والی بات ہے۔خطبات محمود جلد دوم صفحہ 261-260 )