تذکار مہدی — Page 408
تذکار مهدی ) کارمهدی۔408 روایات سید نامحمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے 1880ء سے چلے آ رہے تھے گویا براہین کے زمانہ سے یا اس سے بھی پہلے کے تعلقات ہیں۔پس اس نکاح میں ایک فریق تو وہ ہے جو میاں چراغ الدین صاحب کے خاندان میں سے ہے۔دوسرا فریق بھی ایسے ہی پرانے تعلقات والوں میں سے ہے۔یعنی پیر مظہر الحق صاحب جولڑکے کے والد ہیں۔یہ پیر افتخار احمد صاحب کے لڑکے ہیں اور پیر افتخار احمد صاحب حضرت خلیفہ اول کے سالے اور صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کے لڑکے تھے۔جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے پہلے ہی بشارت دی تھی۔کہ آپ ایک دن مسیحیت کے منصب پر فائز ہونے والے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنے ایک خط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعویٰ سے پہلے ہی لکھا کہ۔ہم مریضوں کی ہے تم ہی نگاه تم مسیحا بنو خدا کے لئے اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی دعوی نہیں فرمایا تھا لیکن روحانیت اور تقویٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انکشاف فرما دیا۔اور جبکہ اور لوگ دعوئی کے بعد بھی مخالفت کرنے لگے، اللہ تعالیٰ نے انہیں دعویٰ سے پہلے ہی بتا دیا کہ ہم اسے مسیح بنانے لگے ہیں۔دیکھو کتنا بڑا فرق ہوتا ہے روحانی نگاہ کا اور جسمانی نگاہ کا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخر ایک ہی چیز تھے دو نہیں تھے۔مگر ایک وجود دعوئی کے بعد ہر قسم کے دلائل نہ دینے کے باوجود ہر قسم کے نشانات دکھانے کے باوجود مولویوں کی نظر میں کافر ٹھہرتا ہے۔انہوں نے دعوئی سنا، دلیلیں سنیں ، نشانات دیکھے، منجزات دیکھے مگر پھر فتویٰ لگا دیا کہ یہ شخص کافر ہے۔لیکن دوسرا آدمی جو روحانی تھا اس نے نہ دعوئی سنا، نہ دلیلیں سنیں ، نہ نشانات دیکھے، نہ معجزات دیکھے مگر اس کی آنکھوں نے بھانپ لیا کہ اس پر خدا تعالیٰ کے انوار نازل ہونے والے ہیں اور پیشتر اس کے کہ وہ دعوی کرتا اس نے کہا میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔یہ کتنا نمایاں فرق ہے جو دکھائی دیتا ہے۔ایک آنکھ دعوئی سے پہلے ہی دیکھ لیتی ہے اور دوسری آنکھ دعوئی سننے اور دلائل سننے کے بعد بھی نہیں دیکھ سکتی۔غرض ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نہایت اخلاص پر مبنی تھا۔اور اسی وجہ سے جب حضرت خلیفہ اول کو دوسری شادی کی ضرورت محسوس ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے لئے اس جگہ رشتہ کرنا پسند فرمایا۔غرض یہ