تذکار مہدی — Page 399
تذکار مهدی ) 399 روایات سید نامحمود استاد اور طالب علم سب ہنسی اڑاتے تھے کہ یہ پڑھائی میں نہایت کمزور ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو میری بیعت میں شامل کر دیا پھر جب میں خلیفہ ہوا تو سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے میرے سارے ہی آباء زندہ تھے۔یعنی والدہ ، نانا، نانی، ماموں ،خسر، تائی ، بڑے بھائی اور ان سب کو اللہ تعالیٰ نے میری بیعت میں شامل کر دیا۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کو بعض لوگ تبلیغ کرتے رہتے تھے۔جب ان کی سمجھ میں بات آگئی تو انہوں نے کہا کہ اب اور تو کوئی روک نہیں صرف شرم آتی ہے کہ چھوٹے بھائی کی بیعت کروں اور چھوٹے بھائی کے ہاتھ میں ہاتھ دوں۔انہوں نے کہا کہ نہیں تو لاہور والوں کی جماعت میں ہی شامل ہو جائیں۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں وہاں تو میں شامل نہیں ہوتا یہ کڑوا گھونٹ پی لوں گا۔آخر وہ بیعت پر آمادہ ہوئے اب بتاؤ جس شخص پر اللہ تعالیٰ کے اتنے فضل ہوں۔وہ کسی انسان سے کب ڈرسکتا ہے پیغامی کہتے ہیں کہ رعب میں آگئے مگر یہ نہیں سوچتے کہ کون رُعب میں آ گیا اور کس کے رعب میں آ گیا۔ماں، نانا، نانی، ماموں ، خسر استاد سب رعب میں آگئے۔کیا والدہ ڈرتی تھیں کہ میرا بیٹا ہے اگر میں نے بیعت نہ کی تو پتہ نہیں کیا کرے گا ؟ کیا نانا نانی اپنے نواسے سے ڈرتے تھے؟ کیا استاد رعب میں آگئے کہ ہمارا شاگرد ہے معلوم نہیں کس کس رنگ میں ہمارے علم کی پردہ دری کرے؟ آخر سوچنا چاہئے کہ یہ سب کس طرح میرے رعب میں آ سکتے تھے اور مجھ سے ڈرنے کی وجہ کیا ہو سکتی تھی۔اگر ان حالات میں بھی میرا کوئی رُعب تھا تو پھر وہی بات تھی جیسے موسیٰ علیہ السلام نے آگ کی چنگاری دیکھی۔وہ بظاہر تو آگ نظر آتی تھی مگر جس نے اس کی طرف آنکھ اُٹھائی اس میں خدا کا جلوہ اُسے نظر آیا اور وہ وہیں گھائل ہو گیا۔دیکھو میں نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کتنی کوشش کی۔انہوں نے لکھا کہ میں ان کا مضمون ”الفضل میں شائع کرا دوں اور وہ میرا مضمون ”پیغام صلح میں شائع کرا دیں گے اور ساتھ ہی لکھ دیا کہ وہ میرا جواب کبھی اپنے اخبار میں شائع نہ کریں گے لیکن میں نے ان کا مضمون ”الفضل“ میں شائع کرا دیا۔پھر میں نے ان کو یہ دعوت بھی دے دی کہ جلسہ سالانہ کے سوا عام دنوں میں وہ یہاں آ کر تقریریں کرلیں۔میں مقامی دوستوں کو جمع کر دوں گا اور باہر بھی یہ اعلان کرا دوں گا کہ جو دوست آسکیں آجائیں۔مگر انہوں نے اصرار شروع کر دیا کہ انہیں جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریریں کرنے دی جائیں۔مضامین کے شائع ہونے کے متعلق اس خیال سے کہ لمبے مضامین