تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 862

تذکار مہدی — Page 394

تذکار مهدی ) 394 روایات سیّد نا محمود کچھ گزارہ مقرر کرنا چاہا میں نے اس بات کا پہلے بڑا مقابلہ کیا اور کہا کہ ہم ہر گز گزارہ نہیں لیں گے لوگ مجھے کہتے کہ آخر آپ کیا کریں گے تو میں یہی کہتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمیں بھوکا رکھنا منظور ہے تو ہم بھوکے رہیں گے۔مگر جماعت سے گزارہ کے لئے کوئی رقم نہیں لیں گے یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی۔اس پر آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میاں خدا کا ایک الہام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوا اور میں نے اس الہام کے یہ معنے نکالے ہیں۔اس لئے تم اس گزارہ کو قبول کر لو۔چنانچہ میں نے وہ گزارہ قبول کر لیا۔مگر وہ گزارہ اس سے بہت کم تھا جو آج کل ہماری اولادوں کو ملتا ہے۔اس وقت مجھے ساٹھ روپے ماہوار ملا کرتے تھے اور ہم نہ صرف میاں بیوی تھے بلکہ اس وقت دو بچے بھی ہو چکے تھے اور ایک خادمہ بھی تھی۔اس کے علاوہ میں انہی روپوں میں سے دس روپے کے قریب دینی کاموں میں خرچ کرتا تھا۔گویا پچاس روپیہ میں ہم گزارہ کیا کرتے تھے لیکن میرے دل میں اس وقت یہ کبھی خیال پیدا نہیں ہوا کہ ہمیں گزارہ کم ملتا ہے۔ہماری جائیداد بے شک تھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ جائیداد کی طرف توجہ نہیں کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ جائیداد کیا ہے اور کتنی قیمت کی ہے۔بعد میں وہ جائیداد خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں روپیہ کی ثابت ہوئی اور باوجود اس کے کہ بہت سی جائیداد ہم بیچ کر کھا چکے ہیں اب بھی اگر سب بھائیوں میں وہ جائیداد تقسیم کی جائے تو ہر ایک کا لاکھ لاکھ ، ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کا حصہ نکل سکتا ہے۔حالانکہ چار پانچ لاکھ روپیہ کی جائیداد ہم بیچ چکے ہیں۔تو یہ چیز موجود تھی مگر ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا اور نہ اس جائیداد کی قیمت کا ہمیں کوئی علم تھا۔نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جائیداد سے کوئی واسطہ رکھا اور نہ ہمیں اس کی طرف کوئی توجہ پیدا ہوئی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے ذرائع سے روپیہ دینا شروع کر دیا جو میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھے۔لوگ جہاں مجھ پر مختلف اعتراضات کیا کرتے ہیں مگر میں ان اعتراضات کی پروا نہیں کیا کرتا وہاں مالی معاملات میں جب بھی مجھ پر کوئی اعتراض کیا گیا ہے میں نے دلیری سے کہا ہے کہ تم مجھ سے پائی پائی کا حساب لے لو۔میں تمہیں بتانے کے لیے تیار ہوں کہ میری جائیداد کس طرح بنی ہے