تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 862

تذکار مہدی — Page 392

تذکار مهدی ) 392 روایات سید نا محمود کہ ہمیں جو کچھ خدا نے دیا ہے۔یہ ہماری اولادوں کی تباہی کا موجب نہ ہو جائے۔ہمیں یہ فکر نہیں کہ وہ کھائیں گے کہاں سے ہمیں تو یہ فکر ہے کہ وہ کہیں اپنے کھانے پینے میں ہی نہ لگ جائیں اور خدا اور اس کے دین کو بھلا نہ بیٹھیں میں نے بتایا ہے کہ شروع میں میری یہ حالت تھی کہ میں دس روپیہ کا نوکر بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔مگر اب سندھ کی زمینوں پر جو میرے ملازم کام کر رہے ہیں ان کی چار ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ ہے۔کجا یہ کہ دس روپے کے نوکر پر میری جان نکلتی تھی اور کجا یہ کہ اب چار ہزار روپیہ ماہوار میں انہیں دیتا ہوں۔یہ روپیہ آخر کہاں سے آیا۔خدا نے ہی دیا۔ورنہ میرے پاس تو کچھ نہیں تھا۔جب ہم قادیان سے آئے ہیں اس وقت ہیں ہیں ہزار روپیہ پر ایک ایک کنال فروخت ہو رہی تھی اور اگر ساری جائیداد فروخت کرنے کا ہمیں موقع ملتا تو وہ کروڑوں روپیہ کی مالیت کی تھی۔پس اللہ تعالیٰ جب دینے پر آتا ہے تو ایسے ایسے رستوں سے دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میں اپنے سب بچوں سے کہا کرتا ہوں کہ تم اس روپیہ کو دیکھ کر کبھی یہ دھوکا نہ کھاؤ کہ یہ تمہاری کوشش اور جدوجہد کے نتیجہ میں تمہیں حاصل ہو رہا ہے۔تمہیں جو کچھ مل رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل مل رہا ہے۔اگر آپ کا یہ دعوی نہ ہوتا کہ میں مامور ہوں اور آپ کی وجہ سے قادیان کو تقدس حاصل نہ ہوتا۔تو کیا تم سمجھتے ہو کہ پھر بھی وہاں ہیں ہیں اور چھپیں چھپیں ہزار کو ایک ایک کنال فروخت ہوا کرتی۔یہ قیمت اسی لئے بڑھی کہ لاہور اور سیالکوٹ اور گجرات اور بمبئی اور کلکتہ سے لوگ آئے اور وہاں انہوں نے اپنی رہائش کے لئے زمینیں خریدنی شروع کر دیں اور وہ اگر وہاں آکر آباد ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی وجہ سے۔پس کبھی یہ خیال نہ کرو کہ تم اپنے روپیہ سے بڑھ رہے ہو۔تمہیں خدا اپنے پاس سے رزق دے رہا ہے پس تم خدا کا شکر ادا کرو اور اس بات کو یاد رکھو کہ دنیا نے تم کو نہیں پالنا۔خدا نے تم کو پالنا ہے تم اپنے اندر دین کی خدمت کا احساس پیدا کرو اور سمجھ لو کہ ہر دنیوی پیشہ کے ساتھ تم دین کی بھی خدمت کر سکتے ہو بشرطیکہ تم مشورہ کے لئے صحیح آدمی کا انتخاب کرو۔الفضل 22 اکتوبر 1955 ء جلد 4419 نمبر 247 صفحہ 12-11) حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال یاد رکھو جب تک جماعت میں نسلاً بعد نسل ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو دین کی