تذکار مہدی — Page 386
تذکار مهدی ) 386 روایات سید نامحمود مطابق جسے اُمت تسلیم کرے وہ شخص خلیفہ مقرر ہوتا ہے اور وہ واجب الاطاعت ہوتا ہے۔یہ سنی کہلاتے ہیں۔(۲) حکم خدا کا ہے۔کسی شخص کو واجب الاطاعت ماننا شرک ہے۔کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے اور مسلمان آزاد ہیں وہ جو کچھ چاہیں اپنے لئے مقرر کریں۔یہ خوارج کہلاتے ہیں۔(۳) انسان امیر مقرر نہیں کرتے بلکہ امیر مقرر کرنا خدا کا کام ہے اسی نے حضرت علی کو امام مقرر کیا اور آپ کے بعد گیارہ اور امام مقرر کئے۔آخری امام اب تک زندہ موجود ہے مگر مخفی۔یہ شیعہ کہلاتے ہیں۔ان میں سے ایک فریق ایسا نکلا کہ اس نے کہا۔دنیا میں ہر وقت زندہ امام کا ہونا ضروری ہے جو ظاہر بھی ہو اور یہ اسماعیلیہ شیعہ کہلاتے ہیں۔خلافت راشده، انوار العلوم جلد 15 صفحہ 489) ایک شیعہ کا قصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک شیعہ کا قصہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک عمر رسیدہ شیعه سخت بیمار ہو گیا۔جب اس کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو بیٹوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں کوئی ایسا نکتہ بتا جائیں جس سے ہمارا ایمان کامل ہو جائے۔کہنے لگا صبر کرو، ابھی میں اچھا ہوں۔جب حالت زیادہ نازک ہو گئی تو بیٹوں نے پھر یاددہانی کرائی تب اس نے کہا نہایت ہی راز کی بات آج میں تم پر ظاہر کرتا ہوں اور وہ یہ کہ کچھ کچھ بغض تم امام حسن سے بھی رکھنا کہ وہ خلافت سے کیوں دست بردار ہو گئے تھوڑی دیر کے بعد پھر بیٹوں نے درخواست کی کوئی اور بات۔کہنے لگا کچھ کچھ بغض امام حسین سے بھی رکھنا کہ انہوں نے مدینہ کیوں چھوڑا کچھ دیر کے بعد پھر بیٹوں نے درخواست کی کہ کوئی اور نکتہ آپ بتائیں۔کہنے لگا اتنا ہی کافی ہے جو میں نے بتا دیا لیکن جب بیٹوں نے اصرار کیا تو کہنے لگا اچھا تھوڑا بغض حضرت علیؓ سے بھی رکھنا کہ وہ شروع میں ہی بزدلی نہ دکھاتے تو خلافت دوسروں کے ہاتھ میں کیوں جاتی۔اس کے بعد بیٹوں نے پھر اصرار کیا کہ کوئی اور بات بھی بتا ئیں۔تو اس نے کہا اچھا تھوڑا بغض رسول کریم ﷺے سے بھی رکھنا کہ انہوں نے جرات کر کے اپنے سامنے ہی کیوں نہ حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کروا دی۔اس کے بعد بیٹوں نے پھر اصرار کیا تو کہا۔اچھا کچھ بغض جبرائیل سے بھی رکھنا کہ