تذکار مہدی — Page 366
تذکار مهدی ) 366 روایات سید نامحمود ملک صاحب نے مجھے اپنی باتیں سنائیں۔میں کسی ایک آدھ بات کا جواب دے دیتا تو پھر اسی خیال میں مشغول ہو جا تا۔رات کو ہی حضرت صاحب کی بیماری یک دم ترقی کر گئی اور صبح آپ فوت ہو گئے یہ بھی ایک تقدیر خاص تھی۔جس نے مجھے وقت سے پہلے اس ناقابل برداشت صدمہ کے برداشت کرنے کے لئے تیار کر دیا۔اسی طرح صوفیاء کے متعلق لکھا ہے کہ جب ان کو بعض ابتلاء آئے اور انہیں پتہ لگ گیا کہ یہ ابتلاء خالص آزمائش کے لئے ہیں تو گو لوگوں نے ازالہ کے لئے کوشش کرنی چاہی انہوں نے انکار کر دیا اور اسی تکلیف کی حالت میں تقدیر الہی۔انوار العلوم جلد چہارم صفحہ 618-617) ہی لطف محسوس کیا۔خواه جان چلی جائے شرک نہیں کرنا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے تو یہ سمجھا گیا کہ آپ اچانک فوت ہو گئے ہیں۔لیکن مجھے پہلے سے اس کے متعلق کچھ ایسی باتیں معلوم ہوگئی تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی بڑا انقلاب آنے والا ہے۔مثلاً میں نے رویا میں دیکھا کہ میں بہشتی مقبرہ سے ایک کشتی پر آرہا ہوں۔رستہ میں پانی اس زور شو کا تھا کہ سخت بھنور پڑنے لگا اور کشتی خطرہ میں پڑ گئی۔جس سے سب لوگ جو کشتی میں بیٹھے تھے ڈرنے لگے۔جب ان کی حالت مایوسی تک پہنچ گئی تو پانی میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک تحریر تھی اس میں لکھا تھا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے ان سے درخواست کرو تو کشتی نکل جائے گئی۔میں نے کہا یہ تو شرک ہے خواہ ہماری جان چلی جائے ہم اس طرح نہیں کریں گے۔اتنے میں خطرہ اور بھی بڑھ گیا اور ساتھ والوں میں سے بعض نے کہا کیا حرج ہے ایسا ہی کر دیا جائے۔اور انہوں نے پیر صاحب کو چٹھی لکھ کر بغیر میرے علم کے پانی میں ڈال دی۔جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اس چٹھی کو کود کر نکال لیا اور جونہی میں نے ایسا کیا وہ کشتی چلنے لگ گئی اور خطرہ جا تا رہا۔جب حضرت صاحب فوت ہوئے اس وقت خدا تعالیٰ نے میرا دل نہایت مضبوط کر دیا اور فوراً میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ اب ہم پر بہت بڑی ذمہ واری آپڑی ہے۔اور میں نے اسی وقت عہد کیا کہ الہی میں تیرے مسیح موعود علیہ السلام کی لاش پر کھڑا ہو کر اقرار کرتا ہوں کہ خواہ اس کام کے کرنے کے لئے دنیا میں ایک بھی انسان نہ رہے تو بھی میں کرتا رہوں گا۔اس وقت