تذکار مہدی — Page 355
تذکار مهدی ) 355 روایات سید نا محمودی آپ روپیہ کے متعلق کسی قسم کی فکر نہ کریں۔بیرونی مشنوں کے لیے جتنے پونڈوں کی ضرورت ہو ہمیں لکھیں ہم کسی نہ کسی طرح جمع کر دیں گے۔غرض خدا تعالیٰ ہر زمانہ میں اپنے زندہ ہونے کا ثبوت مہیا کرتا ہے اور اس طرح وہ اپنے مومن بندوں کے ایمانوں کو بڑھاتا رہتا ہے۔مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جب اشتہار چھپوانے کے لیے بھی ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں ہوتا تھا۔میں جب خلیفہ ہوا اور غیر مبائعین کے مقابلہ میں میں نے پہلا اشتہار لکھا تو اُس وقت ہماری مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ اس اشتہار کے چھپوانے کے لیے بھی ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم کو اس کا علم ہوا جو اُس وقت ہسپتال اور مسجد کے لیے چندہ جمع کر رہے تھے۔انہوں نے اڑھائی سو روپیہ کی پوٹلی لا کر میرے سامنے رکھ دی اور کہا کہ آپ اس روپیہ کو استعمال کر لیں۔جب آپ کے پاس روپیہ آئے گا تو وہ مجھے دے دیں۔چنانچہ پہلا اشتہار ہم نے انہی کے روپیہ سے شائع کیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے وہ دن دکھایا کہ یا تو دوسو اور اڑھائی سو کے لیے ہمارے کام رکے ہوئے تھے اور یا اب ایک ایک شخص ہی نہیں ہیں ہزار روپیہ دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔مثلاً پچھلے سال میں بیمار ہوا تو ڈاکٹروں نے مجھے ولایت جانے کا مشورہ دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ اس نے ایک لاکھ سے زیادہ روپیہ اس غرض کے لیے جمع کر دیا۔غرض زمانے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں اور بدلتے چلے جائیں گے۔ایک زمانہ میں لوگ اربوں ارب روپیہ دیں گے اور انہیں پتا بھی نہیں لگے گا کہ اُن کے مال میں سے کچھ کم ہوا ہے کیونکہ دینے والے کھرب پتی ہوں گے اور جب وہ ہیں یا تھیں یا پچاس ارب روپیہ دیں گے تو انہیں پتا بھی نہیں لگے گا کہ اُن کے خزانہ میں کوئی کمی آئی ہے۔اُس وقت اُنہیں یاد بھی نہیں رہے گا کہ کسی زمانہ میں پچاس روپیہ کی بھی ضرورت ہوتی تھی تو اس کے لیے بھی دعائیں کرنی پڑتی تھیں۔تم تذکرہ پڑھو تو تمہیں اس میں یہ لکھا ہوا دکھائی دے گا کہ ایک دفعہ ہمیں پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل اللہ پر کبھی کبھی ایسی حالت گزرتی ہے۔اُس وقت ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔تب ہم نے وضو کیا اور جنگل میں جا کر دعا کی۔اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام نازل ہوا کہ :۔دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں“