تذکار مہدی — Page 336
تذکار مهدی ) 336 روایات سید نامحمودی کے لوگوں کو ، اور جو ایسی مجالس میں جاتے ہیں وہ غیرت کو پامال کرتے ہیں۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ڈائرسٹوں کے سوا ایسی مجالس میں کوئی نہ جائے۔آریہ سے تبلیغ خطبات محمود جلد 16 صفحہ 298 تا 300 ) | ہمارے سلسلہ میں بیسیوں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کو سچی خوا نہیں آتی اور الہامات ہوتے ہیں اسی طرح ان سے بھی فیض اور برکت کا سلسلہ جاری ہو جائے گا اور وہ جماعت کی روحانی زندگی کا موجب بنیں گے۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک ایسے لوگ قائم رہتے ہیں جماعتیں زندہ رہتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے ملنے اور اس سے تعلق پیدا کرنے کی تڑپ دلوں میں تازہ رہتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو۔آپ اس امر پر کتنا زور دیا۔کرتے تھے کہ پرانے نبیوں کی باتیں اب قصوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔اگر تم تازہ نشانات دیکھنا چاہتے ہو تو میرے پاس آؤ اور میرے نشانات کو دیکھو۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لوگ نئے نشانات کے محتاج تھے۔تو اب بھی محتاج ہیں اور اگر ایسے نوجوان ہماری جماعت میں ترقی کرتے چلے جائیں اور وہ بیسیوں سے سینکڑوں اور سینکڑوں سے ہزاروں ہو جائیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالندھری کی یہ عادت ہوا کرتی تھی کہ ذرا کسی آریہ یا اور کسی مخالف سے بات ہوتی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نقل میں بڑی دلیری سے کہہ دیتے کہ اگر تمہیں اسلام کی صداقت میں شبہ ہے تو آؤ اور مجھ سے شرط کر لو۔اگر پندرہ دن کے اندر اندر مجھے کوئی الہام ہوا اور وہ پورا ہو گیا تو تمہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور پھر اشتہار لکھ کر اس کی دوکان پر لگا دیتے۔چنانچہ کئی دفعہ ان کا الہام پورا ہو جاتا اور پھر وہ آریہ ان سے چھپتا پھرتا کہ اب یہ میرے پیچھے پڑ جائیں گے اور کہیں گے کہ مسلمان ہو جاؤ اور اگر یہ نمونے قائم رہیں تو غیر مذاہب پر ہمیشہ کے لئے اسلام اور احمدیت کی فوقیت ثابت ہو سکتی ہے اور اگر یہ نمونے نہ رہیں۔یا ہماری جماعت کے دوست اس عارضی دھکہ کو جو میری بیماری کی وجہ سے انہیں پہنچا ہے۔اپنی مستقل نیکی اور توجہ الی اللہ کا ذریعہ نہ بنا لیں۔تو ہو سکتا ہے کہ اس میں وقفہ پڑ جائے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وقفہ پڑا اور اسلام لوگوں کو صرف