تذکار مہدی — Page 288
تذکار مهدی ) 288 روایات سید نا محمودی ایک دوست لکھتے ہیں کہ میں اخبار پڑھا رہا تھا اور اس قدر رنج ہوا کہ ساری خبر بھی نہ پڑھ سکا اور الٹا لیٹ کر چیچنیں مارنے لگ گیا۔شور سن کر میری بیوی آئی اور وجہ دریافت کرنے لگی۔میں رقت کے سبب بات بھی نہ کر سکتا تھا۔آخر اس نے اخبار اٹھا کر پڑھا تو اس پر بھی وہی کیفیت طاری ہو گئی۔حتی کہ گاؤں کے غیر احمدی، ہندو، سکھ سب اکٹھے ہو گئے کہ کیا تمہارے ہاں کوئی ماتم ہو گیا ہے۔تو ایک ایسی خبر جس کا اثر لاکھوں انسانوں پر پڑتا ہو اس کے متعلق بعض احتیاطوں کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں چاہئے تھا کہ جس وقت رات کو ساہ بیگم بیمار ہوئی تھیں، اسی وقت مجھے تار دے دیا جاتا اور میرا تجربہ ہے جو کبھی فیل نہیں ہوا کہ جب بھی مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی توفیق مل گئی ہے۔وہ بات یا تو ٹل گئی ہے یا ملتوی ہو گئی ہے۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا، یہ میرا تجربہ ہے حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب لاہور میں بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا محمود کو جگاؤ۔میں جاگا تو کوٹھے پر دعا کے لئے گیا۔مگر دل میں دعا کے لئے جوش نہ پیدا ہوا۔الفاظ تو منہ سے نکلتے تھے مگر دل میں جوش نہیں پیدا ہوتا تھا۔آخر ایک گھنٹہ کی کوشش کے بعد اگر جوش پیدا ہوا تو اس امر پر کہ خدایا کیا میرے دل میں تجھ پر اور تیرے رسولوں پر ایمان نہیں رہا کہ تیرا رسول اور ہمارا امام اس حالت میں ہے اور میرے دل دعا کے لئے جوش پیدا نہیں ہوتا اور اس طرح میں ایک گھنٹہ روتا رہا مگر صحت کی دعا کی طرف توجہ اور وہ حالت جس میں انسان سمجھتا ہے کہ میں نے خدا سے بات منوالی ہے، نہ پیدا ہو سکی۔دوسری ضروری چیز یہ تھی کہ مقامی امیر کوفوراً اطلاع دی جاتی۔بیسیوں لوگوں نے مجھ سے شکوہ کیا ہے کہ اگر پتہ لگتا تو کم سے کم دعا ہی کرتے اور انہیں افسوس ہے کہ دعا بھی نہ کر سکے۔اگر مقامی امیر کو اطلاع ہو جاتی تو سینکڑوں لوگ دعا کرتے اور ممکن ہے ان سے اتنا وقت مل جاتا کہ میں واپس آ جاتا۔(خطبات محمود جلد 14 صفحہ 126 تا 127) باؤلے کتے کے کاٹے کا علاج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے سارے واقعات چونکہ محفوظ نہیں اس لئے اس قسم کی زیادہ مثالیں اب نہیں مل سکتیں ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ سینکڑوں ہزاروں مثالیں آپ کی زندگی میں مل سکتی ہوں گی۔مگر حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب کہ دہریت کا بہت زور ہے اور اس کے توڑنے کے لئے آسمانی نشانوں کی حد درجہ کی ضرورت ہے خدا تعالیٰ نے بہت سے نشانات اس قسم کے دکھائے ہیں جن پر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات کا قیاس کر