تذکار مہدی — Page 287
تذکار مهدی ) 287 روایات سید نا محمود جائے اور آپ نے اس کے لئے دعا کی اور وہ اچھا ہو گیا اور وہ اب تک زندہ ہے اور اپنا کاروبار کرتا ہے۔یہ وہ نشان ہے کہ علمی دنیا کو اس کی بے نظیری ماننے کے سوا چارہ نہیں کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس وقت تک اس قسم کی شفاء کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔بیشک دیوانگی کے دورہ سے پہلے علاج ہو جاتا ہے اور بعض بلا علاج کے بھی دیوانگی کے حملہ سے بچ جاتے ہیں مگر دیوانگی کا دورہ ہو کر پھر شفاء آج تک کسی مریض کو نہیں ہوئی اور یہ ایسا زبردست معجزہ ہے کہ اس زمانہ کی علمی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی زمانہ کے لئے مخصوص رکھا تھا تا سائنس کے دلدادوں پر اپنی قوت اور اپنے جلال کا اظہار کرے اور بتائے کہ میں خدا ہوں جوسب طاقتیں رکھتا ہوں چاہوں تو زندہ کر دوں اور چاہوں تو مار دوں۔تحفہ شہزادہ ویلیز۔انوار العلوم جلد 6 صفحہ 515,514) ڈاکٹری ایک ظنی علم ہے ڈاکٹری ایک ظنی علم ہے اور اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کس حد تک صحیح ہوگا اور کس حد تک غلط۔بعض اوقات علاج ایک رحمت کے فرشتے کی صورت میں نازل ہوتا ہے اور بعض اوقات کچھ بھی اثر نہیں رکھتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جرمنی کا ایک بادشاہ تھا، اسے خناق ہو گیا۔اور برابر آٹھ گھنٹے یورپ کے چوٹی کے ڈاکٹروں اور ملک الموت میں کشتی ہوتی رہی ، آخر ملک الموت غالب آ گیا۔ڈاکٹروں کا کام زندہ کرنا نہیں، صرف کوشش ہے اور اگر کوئی دیانت داری سے کوشش کرتا ہے تو اس پر کوئی شکوہ نہیں۔اس لئے میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ شکوہ نہیں بلکہ اصلاح ہے اور آئندہ کی احتیاط کے لئے ہے۔یسے موقع پر میں شکوہ کرنا فضول سمجھتا ہوں۔اس لئے کہ جو نقصان ہو چکا، اس کے متعلق شکوہ فضول ہے میں یہ نہیں کہتا کہ غلطی ہوئی۔کیونکہ ممکن ہے میں خود بھی ہوتا تو یہ غلطی ہو جاتی۔مگر میں جانتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان یا خلیفہ وقت کے نقصان کو ساری جماعت اپنا نقصان سمجھتی ہے اور اس طرح چونکہ اس سے لاکھوں انسانوں کا تعلق ہے اور انہوں نے اسے محسوس کیا ہے۔میرے پاس تو بعض ایسے خطوط آئے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کئی دوستوں نے ایسا محسوس کیا ہے کہ انہیں اپنے عزیزوں کے متعلق بھی ایسا صدمہ نہ ہوتا۔آج ہی ایک خط آیا ہے۔