تذکار مہدی — Page 269
تذکار مهدی ) 269 روایات سید نا محمود کے چیف جسٹس بھی رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ جب سب سو گئے اور رات کا ایک حصہ گزر گیا تو چھت میں ٹک ٹک کی معمولی سی آواز پیدا ہوئی ( اور ایسی آواز عام طور پر کوئی کیڑا وغیرہ لگا ہو سنائی دیا کرتی ہے ) اور میرے دل میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ چھت گرنے والی ہے۔اس پر میں نے اپنے ساتھیوں کو جگایا اور کہا کہ یہاں سے نکل جانا چاہئے۔مگر انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں صرف آپ کو وہم ہو گیا ہے، ایسی آواز تو ہمیشہ آیا ہی کرتی ہے اور ایسے کیڑے لگے ہوئے شہتیر دس دس اور بیس بیس سال کھڑے رہتے ہیں۔اس پر آپ خاموش ہو گئے مگر تھوڑی دیر بعد پھر بڑے زور سے یہ خیال پیدا ہوا کہ چھت گرنے والی ہے۔اس پر آپ نے پھر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ چلو اس کمرے سے باہر نکلو۔مگر انہوں نے پھر اسی قسم کا جواب دیا اور آپ پھر لیٹ گئے۔مگر پھر آپ کے دل پر یہ خیال غالب ہوا اور یقین ہو گیا کہ شہتیر ٹوٹنے ہی والا ہے۔اس پر آپ نے پھر ساتھیوں سے فرمایا کہ اٹھو اور میری خاطر ہی کمرہ سے نکل چلو۔اس پر وہ بڑبڑاتے ہوئے اُٹھے اور کہنے لگے کہ خوامخواہ آپ ہماری نیند خراب کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے اُس وقت مجھے یقین تھا کہ یہ چھت صرف میرے باہر نکلنے کا انتظار کر رہی ہے۔اس لئے میں دروازہ میں کھڑا ہو گیا اور ان سب کو ایک ایک کر کے گزرنے کو کہا۔جب سب نکل گئے تو میرا ایک پاؤں ابھی سیڑھی پر تھا اور دوسرا اندر کہ چھت گر پڑی۔لالہ بھیم سین صاحب پر اس واقعہ کا اس قدر اثر تھا کہ جن دنوں حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام پر جہلم والا مقدمہ چل رہا تھا ، اُس وقت اُن کے لڑکے ولائت سے نئے نئے بیرسٹری پاس کر کے آئے تھے اور شہرت حاصل کر رہے تھے۔لالہ بھیم سین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا کہ میں نے اپنے لڑکے سے کہا ہے کہ یہ اس کیلئے بڑا چھا موقع ہے کہ وہ آپ کے مقدمہ کی پیروی کر کے برکت حاصل کرے۔لالہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسی عقیدت اور تعلق ظاہر کیا کرتے تھے کہ حضور کو اگر کبھی ضرورت پیش آتی تو ان سے قرض منگوالیا کرتے تھے اور احمدیوں سے قرض مانگتے ہوئے حجاب کرتے تھے۔یہ مثال ایک نمونہ ہے اور بھی ہزاروں مثالیں ہیں مگر یہ چھوٹا سا واقعہ ہے جو بہت نمایاں ہے۔(خطبات محمود جلد 18 صفحہ 496،495)