تذکار مہدی — Page 268
تذکار مهدی ) معجزانہ تائید اور نصرت 268 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں امرتسر سے یکے پر سوار ہوکر روانہ ہوا۔ایک بہت موٹا تازہ ہندو بھی میرے ساتھ ہی یکے پر سوار ہو ا وہ مجھ سے پہلے یکے کے اندر بیٹھ گیا اور اپنے آرام کی خاطر اپنی ٹانگوں کو اچھی طرح پھیلا لیا حتی کہ اگلی سیٹ جہاں میں نے بیٹھنا تھا وہ بھی بند کر دی۔چنانچہ میں تھوڑی سی جگہ میں ہی بیٹھ رہا۔اُن دنوں دھوپ بہت سخت پڑتی تھی کہ انسان کے ہوش باختہ ہو جاتے تھے۔مجھے دھوپ سے بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک بدلی بھیجی جو ہمارے یکے کے ساتھ ساتھ سایہ کرتی ہوئی بٹالہ تک آئی۔یہ نظارہ دیکھ کر وہ ہندو کہنے لگا آپ تو خدا تعالیٰ کے بڑے بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔اسی طرح حضور نے ایک دفعہ کا واقعہ بیان فرمایا کہ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک مکان میں سورہا تھا کہ مجھے القاء ہوا کہ کوئی مصیبت آنے والی ہے اس مکان سے جلد نکل چلو اور دل میں ایسا ڈالا گیا کہ جب تک میں اس مکان کے اندر ہوں وہ مصیبت نازل ہونے سے رُکی رہے گی۔چنانچہ میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے سب دوستوں کو پہلے مکان سے باہر نکال لوں۔چنانچہ جب وہ باہر چلے گئے اور میں بھی باہر جانے لگا تو ابھی میرا ایک قدم باہر اور ایک دروازے کے اندر کی طرف تھا کہ اس مکان کی چھت گر پڑی لیکن اپنی قدرت سے خدا تعالیٰ نے ہم سب کو اس بلائے ناگہانی سے محفوظ رکھا۔پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ایسے سلوک کرتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے مگر عبودیت شرط ہے اور ایسے انسان کا انجام ضرور بخیر ہوگا۔بظاہر وہ دنیا کی ظاہر بین نظروں میں ذلیل ہوتا نظر آرہا ہوگا لیکن انجام کار اُس کو عزت حاصل ہوگی۔بظاہر وہ بد نام بھی ہورہا ہوگا لیکن انجام کار نیک نامی اسی کو حاصل ہوگی۔گویا اس شخص کی ابتداء عبودیت سے اور انجام استعانت پر ختم ہو گا۔( خطبات محمود جلد 17 صفحہ 534-535) حفاظت الہی کا معجزہ اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی ملتی ہے۔جوانی کے ایام کا واقعہ ہے کہ آپ سیالکوٹ میں ایک مکان میں سو رہے تھے۔اُس وقت اُس کمرہ میں ایک ہندو صاحب بھی تھے جن کا نام لالہ بھیم سین تھا اور وہ وکالت کا پیشہ کرتے تھے۔انہی صاحب کے لڑکے لالہ کنور سین کچھ عرصہ ہوا لاء کالج لاہور کے پرنسپل تھے اور بعد میں ریاست جموں وکشمیر