تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 862

تذکار مہدی — Page 237

تذکار مهدی ) 237 روایات سید نا محمود بڑھتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائیدات اور نصرتیں بھی بڑھ جاتی ہیں اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں جب کوئی دوست یہ ذکر کرتے کہ ہمارے ہاں بڑی مخالفت ہے تو آپ فرماتے یہ تمہاری ترقی کی علامت ہے۔جہاں مخالفت ہوتی ہے وہاں جماعت بھی بڑھتی ہے کیونکہ مخالفت کے نتیجہ میں کئی ناواقف لوگوں کو بھی سلسلہ سے واقفیت ہو جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اُن کے دل میں سلسلہ کی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے اور جب وہ کتابیں پڑھتے ہیں تو صداقت اُن کے دلوں کو موہ لیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایک دفعہ ایک دوست حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کی بیعت کی۔بیعت لینے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کس نے تبلیغ کی تھی وہ بے ساختہ کہنے لگے۔مجھے تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے تبلیغ کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حیرت سے فرمایا وہ کس طرح؟ وہ کہنے لگے میں مولوی صاحب کا اخبار اور اُن کی کتابیں پڑھا کرتا تھا اور میں ہمیشہ دیکھتا کہ ان میں جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت ہوتی تھی۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ میں خود بھی تو اس سلسلہ کی کتابیں دیکھوں کہ ان میں کیا لکھا ہے اور جب میں نے ان کتابوں کو پڑھنا شروع کیا تو میرا سینہ کھل گیا اور میں بیعت کے لئے تیار ہو گیا۔تو مخالفت کا پہلا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے الہی سلسلہ کو ترقی حاصل ہوتی ہے اور کئی لوگوں کو ہدایت میسر آ جاتی ہے۔پھر دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید اور نصرت کے نشانات ظاہر ہونے لگ جاتے ہیں۔جب مخالفت اپنے انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو مومنوں کی عاجزانہ دعائیں اللہ تعالیٰ کی نصرت کو آسمان سے بھینچ لاتی ہیں۔(تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 487) تبلیغ مولوی محمد حسین بٹالوی نے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں ایک بڑے ادیب جو محاورات اردو کی کتاب بھی چالیس جلدوں میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور جس کا کچھ حصہ نواب صاحب رامپور نے شائع بھی کرایا تھا، قادیان حضرت مسیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام کی بیعت کرنے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو سلسلہ کی تبلیغ کس