تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 862

تذکار مہدی — Page 209

تذکار مهدی ) 209 سب جانتے ہیں کہ وہ بے حیا ہے اس لئے اسے چھوڑ بھی دیتا ہوں۔گستاخی کی سزا روایات سید نا محمود ( خطبات محمود جلد 22 صفحہ 176-177 ) | ہم ایک دفعہ لکھنو گئے۔وہاں ایک سرحدی مولوی عبدالکریم تھا جو ہماری جماعت کا شدید مخالف تھا۔اُس نے ہمارے آنے کے بعد ایک تقریر کی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک واقعہ کو اُس نے نہایت تحقیر کے طور پر بیان کیا۔وہ واقعہ یہ تھا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دتی گئے وہاں ہمارے ایک رشتہ دار کے ماموں مرزا حیرت دہلوی تھے۔انہیں ایک دن شرارت سوجھی اور وہ جعلی انسپکٹر پولیس بن کر آگئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ڈرانے کے لئے کہنے لگے کہ میں انسپکٹر پولیس ہوں اور مجھے حکومت کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں آپ کو نوٹس دوں کہ آپ یہاں سے فوراً چلے جائیں ورنہ آپ کو سخت نقصان ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اس کی طرف توجہ نہ کی مگر جب بعض دوستوں نے تحقیق کرنی چاہی کہ یہ کون شخص ہے تو وہ وہاں سے بھاگ گئے۔اس واقعہ کو مولوی عبدالکریم سرحدی نے اس رنگ میں بیان کیا کہ دیکھو وہ خدا کا نبی بنا پھرتا ہے مگر وہ دتی گیا تو مرزا حیرت انسپکٹر پولیس بن کر اُس کے پاس چلا گیا۔وہ کوٹھے پر بیٹھا ہوا تھا۔(حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نیچے دالان میں بیٹھے ہوئے تھے ) جب اُس نے سُنا کہ انسپکٹر پولیس آیا ہے تو وہ ایسا گھبرایا کہ سیڑھیوں سے اُترتے وقت اس کا پیر پھسلا اور وہ مونہہ کے بل زمین پر آ گرا۔لوگوں نے یہ تقریر سن کر بڑے قہقہے لگائے اور ہنستے رہے۔لیکن اُسی رات مولوی عبد الکریم کو خدا تعالیٰ نے پکڑ لیا۔وہ اپنے مکان کی چھت پر سویا ہوا تھا کہ رات کو وہ کسی کام کے لئے اٹھا اور چونکہ اُس چھت کی کوئی منڈیر نہیں تھی اور نیند سے اُس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں اُس کا ایک پاؤں چھت سے باہر جا پڑا اور وہ دھڑم سے نیچے آ گرا اور گرتے ہی مر گیا۔اب دیکھو اگر اُس کو غیب کا پردہ نہ ہونے کی صورت میں پتہ ہوتا کہ مجھے گستاخی کی یہ سزا ملے گی تو وہ بھی گستاخی نہ کرتا بلکہ آپ پر ایمان لے آتا گوالیا ایمان اُس کے کسی کام نہ آتا کیونکہ جب غیب ہی نہ رہا تو ایمان کا کیا فائدہ۔ایمان تو وہی کارآمد ہو سکتا ہے جو غیب کی حالت میں ہو۔ثواب یا عذاب سامنے نظر آنے پر تو ہر کوئی ایمان لاسکتا ہے۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 23)