تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 862

تذکار مہدی — Page 167

تذکار مهدی ) 167 روایات سیّد نا محمود تھا اس پر استغاثہ کی طرف سے لمبی چوڑی تقریر کی گئی اور کہا گیا کہ سزا ضرور دینی چاہئے۔تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت ہو۔حضرت صاحب فرماتے ہیں تقریر چونکہ انگریزی میں تھی اس لئے میں اور تو کچھ نہ سمجھتا لیکن جب حاکم تقریر کے متعلق No-No (نونو) کہتا تو اس لفظ کو سمجھتا۔آخر تقریر ختم ہوئی تو حاکم نے کہہ دیا۔بری اور کہا جب اس نے اس طرح سچ سچ کہہ دیا تو میں بری ہی کرتا ہوں۔پھر لوگ ہنسی مذاق میں جھوٹ بول لیتے ہیں مگر یہ بھی نا جائز ہے اور یہ بھی جھوٹ ہی ہے اس سے بھی بچنا چاہئے۔(اصلاح نفس۔انوار العلوم جلد نمبر 5 صفحہ 435-434) مقدمہ مارٹن کلارک الہی تائید اور نصرت دنیا کی کوئی قوم ہماری مددگار نہیں۔پس آپ خدا سے دعائیں کریں کہ وہ ہمارا ہو جائے جب وہ ہمارا ہو جائے تو کسی قوم کی عداوت ہمیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔خدا تعالیٰ کے انبیائ کی بہت بڑی شان ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور انکساری اور خشوع و خضوع میں ان کے برابر کوئی نہیں ہوتا اور خدا تعالیٰ کی ان پر نظر ہوتی ہے ایسے قرب کے مقام پر ہوتے ہوئے بھی جہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور دوستوں کو ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کے دوران میں دعا کے لئے فرمایا وہاں مجھے بھی دعا کے لئے ارشاد فرمایا اس وقت میری عمر دس سال کی تھی اور یہ عمر ایسی ہوتی ہے کہ مذہب کا بھی کوئی ایسا احساس نہیں ہوتا۔میں نے اس وقت رویا میں دیکھا کہ ہمارے گھر میں پولیس کے لوگ جمع ہیں اور دوسرے لوگ بھی ہیں۔پاتھیوں کا ( اوپلوں کا ) ڈھیر ہے جس کو وہ آگ لگانا چاہتے ہیں لیکن جب بھی وہ آگ لگاتے ہیں آگ بجھ جاتی ہے۔تب انہوں نے کہا کہ آؤ تیل ڈال کر پھر آگ لگا ئیں تب انہوں نے تیل ڈالا لیکن پھر بھی آگ نہ لگی۔اس وقت میری نظر اوپر کی طرف گئی اور میں نے دیکھا کہ ایک لکڑی پر موٹے الفاظ میں لکھا ہو ا ہے کہ خدا کے بندوں کو کوئی نہیں جلا سکتا۔پس اگر خدا ہمارا ہو جائے اور اس کی رضا ہمیں حاصل ہو جائے تو دنیا ہزار روکیں ہماری راہ میں پیدا کرے۔ہمارا کچھ نقصان نہیں کر سکتی اور اگر خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے تو دنیا کی بادشاہتیں اور حکومتیں بھی ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔(الفضل 3 جنوری 1925 ء جلد 12 نمبر 31 صفحہ 11)