تذکار مہدی — Page 155
تذکار مهدی ) کارمهدی 155 روایات سیّد نا محمود علاج کر دیں۔میں نے ان کے سامنے وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام والا طریق پیش کیا اور بتایا کہ ان کے ساتھ فلاں موقع پر ہم نے یہ کیا اور فلاں موقع پر یہ کیا اور ان سے کہیں کہ ان میں سے ایک بات کا بھی انکار کر دیں انہوں نے تسلیم کیا کہ میں سمجھ گیا ہوں اب میں ان کی سفارش نہیں کروں گا اور ان کو جا کر ڈانٹا اور اس جھگڑے کی صلح صفائی کرا دی۔ہمارا سلوک ایسا ہے کہ گو کوئی ہمیں ظالم ہی کہے لیکن دلوں میں ہماری خوبی کو مانتے ہیں۔اب بھی ان لوگوں کو کوئی مصیبت پیش آئے تو امداد کے لئے ہمارے پاس آتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ظالم کے پاس مدد کے لئے کوئی نہیں جایا کرتا۔ہماری عادت یہ نہیں کہ نام ظاہر کریں لیکن اگر ضرورت ہو تو میں ثابت کر سکتا ہوں کہ ہم نے ہندوؤں ،سکھوں اور غیر احمد یوں سب کی مدد کی ہے۔انہیں وظائف دیئے ہیں، کپڑے دیئے ہیں ، روپے دیئے ہیں اور اگر ضرورت ہو تو ان لوگوں کو سامنے بٹھا کر میں اقرار کرا سکتا ہوں کہ تم لوگوں کی فلاں فلاں مدد کی گئی یا نہیں۔1928ء میں جب میں ڈلہوزی گیا تو قادیان کے لالہ شرمیت صاحب کے لڑکے لالہ گوکل چند صاحب تحصیلدار جو فوت ہو چکے ہیں ، وہ بھی وہاں گئے ، ہمارے ساتھ کی کوٹھی میں گجرات کے ایک رئیس جو غالباً آنریری مجسٹریٹ بھی تھے مقیم تھے، لالہ گوگل چند صاحب دو چار روز کے لئے ہی وہاں گئے تھے اور ان کے ساتھ تعلقات تھے اس لئے ان کے ہاں ہی ٹھہرے۔ایک دن مجھے ملنے آئے تو کہا کہ آپ کو ایک بات بتاتا ہوں میں نے اپنے میزبان سے کہا تھا کہ آپ مرزا صاحب سے ابھی تک کیوں نہیں ملے تو وہ کہنے لگے کہ وہ تو اس قدر ظالم اور متعصب ہیں ، ان سے میں کیسے مل سکتا تھا۔وہ ہندوؤں سے بہت تعصب رکھتے ہیں۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ میں تو قادیان کا رہنے والا ہوں میں خوب جانتا ہوں کہ یہ سب باتیں جھوٹی ہیں۔اس پر وہ حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ اچھا یہ بات ہے۔بہر حال جو انصاف کرنے والا ہے وہ خواہ کتنا بد نام ہو جائے مگر پھر بھی کامیاب وہی ہوتا ہے اب بھی ہمارے خلاف بہت شور ہے مگر اب بھی میں ایسی تحریریں دکھا سکتا ہوں کہ کوئی جھگڑا ہو تو کہتے ہیں آپ فیصلہ کر دیں۔ہم بار بار کہتے ہیں کہ عدالت میں جاؤ مگر کہتے ہیں کہ نہیں آپ ہی فیصلہ کر دیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں اس زمانہ میں اس بات کی توفیق ملی ہے کہ انصاف قائم کریں گو اس وقت بدنام ہیں مگر یہ بدنامی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی دلوں میں ہماری قدر خدا کے فضل سے ہے۔مجھے ایک دوست نے سنایا کہ TRIBUNE میں جب