تذکار مہدی — Page 118
تذکار مهدی ) 118 روایات سید نا محمود کشمیری جی ! اے بھائی جی! آپ کے پاس نسوار ہے۔مجھے یہ بات سن کر بے اختیار ہنسی آگئی کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنی گردن بھی نیچی نہیں کرتا تھا آج نشتہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے کس قدر لجاجت پر اتر آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جو دوست باہر سے آپ کی ملاقات کے لئے آتے تھے اُن میں سے بعض لوگ حقہ کے بھی عادی ہوتے تھے۔اُن دنوں قادیان میں اور تو کسی جگہ حقہ نہیں ہوتا تھا صرف ہمارے ایک تایا کے پاس ہوا کرتا تھا جو سخت دہر یہ اور دین سے بے تعلق تھے مگر حقہ کی عادت کی وجہ سے وہ اُن کے پاس بھی چلے جاتے اور انہیں مجبوراً اُن کی باتیں سننی پڑتیں۔ہمارے یہ تایا دین سے ایسے بے تعلق تھے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اُن سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نماز بھی پڑھی ہے۔وہ کہنے لگے میں تو بچپن سے ہی بڑا سلیم الطبع واقعہ ہوا ہوں۔میں چھوٹی عمر میں ہی جب دیکھتا کہ لوگوں نے سر نیچے اور سرین اوپر کئے ہوئے ہیں۔تو میں ہنستا کہ یہ کیسے بے وقوف لوگ ہیں اور اب تو میں بہت سمجھدار ہوں میں نے نماز کیا پڑھنی ہے۔ایک دوست نے سنایا کہ ایک دفعہ ایک احمدی وہاں حقہ پینے کے لئے چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد اپنے آپ کو گالیاں دیتے ہوئے واپس آ گیا۔کسی دوست نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔وہ کہنے لگا کہ میں اپنے آپ کو اس لئے بُرا بھلا کہہ رہا ہوں کہ محض حقہ کی عادت کی وجہ سے مجھے اس کے پاس جانا پڑا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف باتیں سننی پڑیں۔اگر مجھے یہ بُری عادت نہ ہوتی تو میں اس کے پاس کیوں جاتا اور اپنے آقا کے خلاف اس کے منہ سے کیوں باتیں سنتا۔غرض حقہ لغویات میں شامل ہے جس کو چھوڑنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اگر کوئی شخص خود نہ چھوڑ سکے تو اسے کم از کم یہ کوشش ضرور کرنی چاہیئے کہ اس کی اگلی نسل اس بدی سے محفوظ رہے اور اس کی عمر کے خاتمہ کے ساتھ اس لغو فعل کا بھی اس کے خاندان میں خاتمہ ہو جائے۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه 589-588) دوسروں کو دیکھ کر رنگ پکڑتے ہیں ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔اگر محلہ میں ایک شخص نماز نہیں پڑھتا تو اُسے دیکھ کر دو چار اور بچے بھی ایسے نکل آتے ہیں جو نماز چھوڑ